فضائل القرآن — Page 377
فصائل القرآن نمبر۔۔۔377 باتیں کرتے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ تم سے پہلی قومیں اسی اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئی ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ کی کتاب اس لئے اُتری ہے کہ اس کی ہر آیت دوسری کی تصدیق کرے۔" پس جو آیت دوسری آیت کی تصدیق نہ کرے اس کے معنی بدلنے چاہئیں اور دونوں آیات کے مضمون میں مطابقت پیدا کرنی چاہئے۔پس کبھی قرآن کے وہ معنی نہ کرو جو اس کی کسی دوسری آیت کو جھٹلاتے ہوں۔اگر مطلب سمجھ میں نہ آئے تو جانے دو اور کسی عالم قرآن سے دریافت کرو وہ تمہیں اس کا مطلب بتادے گا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بتا دیا کہ قرآن کریم کی آیات آپس میں مخالف نہیں اگر استعارہ سمجھ میں آجائے تو اُسے محکم آیات کے مطابق کرو اور اگر سمجھ میں نہ آئے تو کسی واقف کے پاس جاؤ اور اُس سے دریافت کرو کہ کیا بات ہے وہ تمہاری عقدہ کشائی کر دے گا۔غرض اس اصل کے ماتحت جو قرآن کریم نے بتایا ہے اور حدیث کے بھی ماتحت ہے جہاں دوسری کتب میں بعض خلاف عقل اور خلاف سنت باتیں پائی جاتی ہیں وہاں قرآن کریم ان باتوں سے پاک ہے کیونکہ مستعمل استعاروں کا حل قرآن میں موجود ہے۔قرآنی استعارات کی ایک مثال اس سلسلہ میں اگر چہ قرآن کریم کی بیبیوں باتیں بیان کی جاسکتی ہیں مگر چونکہ میں قرآن کی تفسیر نہیں کر رہا اس لئے مثال کے طور پر میں صرف ایک امر بیان کر دیتا ہوں اور وہ وہی ہے جس کا ذکر سورہ نمل کے اُس رکوع میں کیا گیا ہے جس کی آج ہی میں نے تقریر شروع کرنے سے قبل تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا اور ان دونوں نے کہا الحَمْدُ للهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ اللہ تعالیٰ ہی تمام تعریفوں کا مستحق ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت بخشی ہے وَوَرِثَ سلیمن دَاوُدَ اور سلیمان داؤد کا وارث بنا اور اس نے کہا اے لوگو! مجھے اور میرے باپ کو پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہم کو ہر ایک چیز دی گئی ہے اور ہم پر یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے اور سلیمان کے لیے لشکر جمع کئے گئے۔وہ لشکر انسانوں کے بھی تھے اور جنوں کے بھی اور پرندوں