فضائل القرآن — Page 375
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔375 أولُوا الأَلْبَابِ سے فرماتا ہے قرآن کے جو مضامین ہیں ان میں سے کچھ تو محکم ہیں یعنی ان میں استعارہ استعمال نہیں ہوا مگر کچھ آیتیں ایسی ہیں جن میں استعارے استعمال ہوئے ہیں۔یعنی الفاظ تو ہیں مگر ان میں تشابہ ہے۔مثلاً انسان کو بندر اور سؤر کہ دیا گیا ہے۔فرماتا ہے وہ لوگ جو کبھی چاہتے ہیں وہ استعاروں والی آیات کو لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہی حقیقت ہے۔اگر یہود کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں بندر بنا دیا تو وہ کہتے ہیں کہ واقعہ میں انسانی شکل مسخ کر کے انہیں بندر بنادیا گیا تھا اور اگر یہ آئے کہ انہیں سور بنا دیا گیا تھا تو وہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ واقعہ میں وہ سور بن گئے تھے۔اگر یہ ذکر آئے کہ خدا عرش پر بیٹھا ہے تو یہ کہنے لگ جائیں گے کہ اس کے واقعہ میں گھٹنے ہیں اور وہ کسی تخت پر بیٹھا ہے اور اس سے غرض ان کی یہ ہوتی ہے کہ وہ فتنہ پیدا کریں۔وَابْتِغَاء تأویلہ اور حقیقت سے پھرانے کے لئے وہ ایسا کرتے ہیں۔تاویل کے معنی پھرانے کے ہوتے ہیں چاہے حقیقت سے دور لے جانے کے معنوں میں ہو یا حقیقت کی طرف لے جانے کے معنوں میں ہو مگر یہاں وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ کے معنی حقیقت سے دُور لے جانے کے ہیں۔یعنی استعارے کو وہ حقیقت قرار دے کر لوگوں کو اصل معنوں سے دور لے جاتے ہیں۔حالانکہ وہ استعارہ ہوتا ہے اور استعارہ کی وجہ سے اس کا مفہوم خدا ہی بیان کرسکتا ہے جو عالم الغیب ہے۔تم خود کس طرح سمجھ سکتے ہو۔اگر کہو کہ پھر ہمیں استعاروں کے مفہوم کا کس طرح پتہ لگے؟ تو فرمایا الراسخونَ فِي الْعِلْمِ ہم نے اِن کا مفہوم قرآن میں بیان کر دیا جو سمجھنے والے ہیں اُن کے سامنے جب دونوں آیات آتی ہیں وہ بھی جن میں استعارہ ہوتا ہے اور وہ بھی جن میں حقیقت ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں حُلٌّ مِّنْ عِنْدِرَتِنَا۔وہ آیت بھی خدا کی طرف سے ہے جو استعارے والی ہے اور وہ آیت بھی اس کی طرف سے ہے جو اسے حل کرنے والی ہے اور ناممکن ہے کہ ان دونوں میں اختلاف ہو۔مثلاً اگر ہم کہیں کہ زید گدھا ہے اور پھر کہیں کہ زید نے فلاں کتاب نقل کر کے دی ہے تو اس صورت میں اگر کوئی دوسرا اس استعارے کو حقیقت قرار دیتے ہوئے سوال کرے کہ کیا زید چوپایہ ہے؟ تو اُسے دوسرے فقرہ کو جس میں اُس کی طرف کتاب کا نقل کرنا منسوب کیا گیا ہے جھٹلا نا پڑے گا لیکن اگر ہم کہہ دیں کہ دونوں فقرے صحیح ہیں تو لازما استعارہ کو استعارہ کے معنوں میں لانا پڑے گا اور حقیقت کو حقیقت کے معنوں میں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا