فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 434

فضائل القرآن — Page 181

فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 181 معلوم ہوتا ہے کہ ارواح کا فرہ بھی آسمان پر نہیں جاسکتیں۔پھر ہم کہتے ہیں رسول کریم سی ا یہی تم سے پہلے جب شیطان او پر بیٹھتا تھا تو اب کیوں نہیں بیٹھتا؟ کیا اللہ تعالیٰ کو پہلے غیب کی حفاظت کی ضرورت نہ تھی۔پھر وہ کون تھے جو خدا تعالیٰ کا غیب سُن کر زمین پر آجایا کرتے تھے حالانکہ قرآن صاف طور پر ان معنوں کو رڈ کرتا ہے۔قرآن کہتا ہے کہ نہ آسمان پر کوئی جا سکتا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کے بتائے بغیر کسی کو غیب معلوم ہوسکتا ہے۔پھر ان معنوں کے لحاظ سے تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ نَعُوذُ بِاللهِ خدا تعالیٰ کو بھی علم غیب نہیں تھا کیونکہ ایسی ہستیاں آسمان پر جا کر بیٹھتی تھیں جو غیب کی باتیں سن لیتی تھیں مگر خدا تعالیٰ کو ان کے بیٹھنے کا پتہ نہیں لگتا تھا۔اب اس نے پتہ لگانے کے لئے پہرہ دار مقرر کر دیئے ہیں۔در اصل ان آیات کے یہ معنے ہیں کہ آسمان روحانیت سے آنے والی پہلی کتابیں ایسی تھیں کہ جنہیں مخالف چھو سکتے یعنی انہیں بگاڑ دیتے تھے اور ان میں تبدیلیاں کر لیا کرتے تھے لیکن اب جو کتاب آئی ہے وہ ایسی ہے کہ اسے کوئی چھو نہیں سکتا یعنی اسے کوئی بگاڑ نہیں سکتا اور اس کی حفاظت کا خاص سامان کیا گیا ہے اور پہلے تو ہم لوگ یعنی ہم میں سے بعض لوگ کلام کوشن کر جس طرح چاہتے تھے توڑ مروڑ کر بات سنا دیا کرتے تھے لیکن اب یہ دروازہ بھی بند ہو گیا ہے اور جو کتاب آئی ہے وہ ایسی ہے کہ کوئی بگاڑنے والا اُسے چھو نہیں سکتا بلکہ اگر کوئی بگاڑنے کی کوشش کرے گا تو فوراً اس پر ایک شعلہ مارتا ہواستارہ آگرے گا۔گو یاکمش تو بالکل بند ہے لیکن ستمع ہوسکتا ہے مگر اس میں بھی یہ انتظام ہے کہ جو جھوٹ ملا کر بات کرے اور بدنیتی سے سنے اس کی فور ائتر دید ہو جاتی ہے۔غرض قرآن کریم کی ایسی کامل حفاظت کر دی گئی ہے کہ اسے لفظ بھی کوئی شخص بگاڑ نہیں سکتا اور مفہوم بگاڑنے والوں کے متعلق بھی خدا تعالیٰ نے ایسے سامان رکھے ہیں کہ ان سے اس بگاڑ کی اصلاح ہوتی رہے گی۔شاید کوئی خیال کرے کہ اس جگہ تو آسمان کا لفظ ہے۔پس آسمان کو چھونا ہی مراد ہو سکتا ہے نہ کہ کسی اور چیز کو سو یا درکھنا چاہئے کہ (۱) وہ آسمان جس سے کلام نازل ہوتا ہے یہ مادی آسمان نہیں ہوسکتا اور نہ اللہ تعالیٰ کو مادی ماننا پڑے گا۔پھر یہ آسمان تو مادہ لطیف ہے کوئی ٹھوس چیز تو نہیں جس کو چھونے اور بیٹھنے کا کچھ مطلب