فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 434

فضائل القرآن — Page 182

فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔182 ہو۔پس آسمان جس سے کلام اُترا ہے اس کے معنے کچھ اور ہی کرنے پڑیں گے۔(۲) عربی زبان کے محاورہ کے رُو سے سبب اور مقام کے لفظ کو استعارہ سبب اور مقام سے نکلی ہوئی چیز کے لئے بھی استعمال کر لیتے ہیں۔چنانچہ یہی سماء کا لفظ بارش کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔بارش چونکہ اوپر سے نازل ہوتی ہے اس لئے اسے بھی سماء کہہ دیتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے وَاَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِّدْرَارًا کے ہم نے ان پر بادلوں کو موسلا دھار بارش برساتے ہوئے بھیجا۔اسی طرح سبزی ترکاری کو بھی سماء کہتے ہیں کیونکہ وہ پانی سے پیدا ہوتی ہے۔کہتے ہیں۔مَا زِلْنَا نَا السَّمَاءَ حَتَّى أَتَيْنَا كُمُ ہم سَمَاء یعنی سبزی کو مچلتے ہوئے تمہارے گھر تک آئے۔پس اس جگہ سماء سے مراد آسمانی کتاب ہے ورنہ یہ کہنا بے جا ہوگا کہ ہم پہلے وہاں بیٹھ کر سنا کرتے تھے اب ایسا نہیں کر سکتے۔پہلے کیوں سنتے تھے اور اب کیوں نہیں سنتے۔ہمیں کوئی ایسا سماء نکالنا پڑے گا جسے پہلے چھو لیا کرتے تھے اور اب نہیں چھو سکتے۔سو اس کے متعلق قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سماء آسمانی کتابوں کا ہے کہ پہلے لوگ ان کو بگاڑ لیتے تھے۔چنانچہ سورۃ بینہ میں آتا ہے۔لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكَيْنَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ رَسُولٌ مِنَ اللهِ يَتْلُوا صُحُفًا مطَهَّرَةٌ فِيهَا كُتب قيمة۔اے فرمایا یہ اہل کتاب اور مشرکین اپنی جہالت کو کبھی چھوڑ نہ سکتے تھے جب تک کہ ان کے پاس ایک بینہ نہ آجاتی۔بینہ کیا ہے؟ وہ خدا کا رسول ہے جو اُن پر کئی پاکیزہ صحیفوں والی کتاب پڑھتا ہے۔کئی ایسی تعلیمیں تھیں جو بگڑ گئی تھیں۔قرآن کریم میں ان کو اصل حالت میں پیش کیا گیا ہے۔پس چونکہ اب اس میں کتب قیمہ جمع ہو گئی ہیں اس لئے اب یہ کتاب نہیں بگڑ سکتی۔قرآن کے متعلق فِيهَا كُتُب قيمة کہ کر بتایا کہ پہلی تعلیموں میں دو قسم کی خرابیاں تھیں۔ایک وہ خرابی جس کی اصلاح کی ضرورت بوجہ نسخ نہ رہی تھی اسے چھوڑ دیا۔دوسری وہ خرابی جو ایسی تعلیم میں تھی جو قائم رہنی تھی سوا سے دور کر کے اخذ کر لیا۔غرض اگر تو کوئی ایسی تعلیم بگڑ گئی تھی جس کی دنیا کو اب ضرورت نہ تھی تو اسے چھوڑ دیا گیا ہے اور اگر اس تعلیم میں خرابی پیدا ہو گئی تھی جو قائم رہنی چاہئے تھی تو اس خرابی کو دور کر کے صحیح تعلیم کو اخذ کر لیا گیا ہے۔