فضائل القرآن — Page 95
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 95 بلکہ وہ وجو د مخفیہ ہیں جن کا نام سپر چولزم والے ارواح اور ہپنا ٹزم والے قوائے روحانیہ رکھتے ہیں۔چونکہ یہ نظروں سے پوشیدہ ہوتے ہیں اس لئے ان کو جن کہا گیا ہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کسی عقلمند کا دعویٰ نہیں تھا کہ جنات سے مل کر وہ اعلیٰ روحانی تعلیم بنا سکتا ہے۔پس جس چیز کا دعوی ہی نہیں تھا اور جس اجتماع کا امکان ہی نہیں تھا اس کا چیلنج عقل کے خلاف ہے۔پس اس جگہ جن سے مراد وہ روحانی افعال ہیں جو سبجیکٹو مائنڈ Subjective) (Mind سے ظاہر ہوتے ہیں یا وہ اتحاد ہے جو بقول بعض ارواح غیر مرئی سے انسانوں کا ہو جاتا ہے اور ان سے وہ بعض روحانی علوم دریافت کر لیتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم ان سے بھی مدد لے لو وہ بھی تمہاری مدد کریں تب بھی تم اس قرآن کی مثل نہیں لا سکتے۔پس یہاں جن سے مراد وہ ارواح ہیں جن کی مدد سے لوگ دعوی کرتے ہیں کہ وہ نئے روحانی علوم معلوم کر سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان سے بھی مدد لے لو اور قرآن کی مثل بنا دو۔پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ بغیر کلام الہی کے کام چل سکتا ہے یا نہیں۔چنانچہ دیکھ لو یہ کس قدر ز بر دست معجزہ قرآن کریم کا ہے کہ وہی زمانہ جس کے متعلق احادیث نبویہ سے ثابت ہے کہ قرآن کریم کے اُٹھنے کا ہے۔اور جس زمانہ میں رحمة رب سے دوبارہ قرآن آنے کا ذکر ہے۔اس زمانہ میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہیں جو ارواح سے مل کر حقائق روحانیہ کے دریافت کرنے کے مدعی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس چینج کو قبول کرتے ہیں اگر ارواح کے اندر یہ قابلیت ہے کہ وہ آپ ہی آپ اپنی ترقی کے ذریعہ علوم کو معلوم کرلیں تو وہ قرآن کی مانند کوئی تعلیم پیش کر کے دکھائیں۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مثل میں کن کن امور کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔سواس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَقَد صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ فَأَبَى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا۔ہم نے قرآن میں دو خو بیاں رکھی ہیں۔ان کی مثال روحوں سے تعلق رکھنے والے اور خود روحانیات میں ترقی کرنے کا دعویٰ کرنے والے پیش کریں۔ایک تو یہ کہ ہر ضروری امر جس کی روح کو ضرورت ہے قرآن کے اندر بیان کر دیا گیا ہے۔دوسرے ہر ضروری امر کی ہر ضروری شق بیان کر دی گئی ہے۔یعنی مختلف متفاوت فطرتوں کا اس میں پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے اور