فضائل القرآن — Page 96
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ ہر حکم ایسے رنگ میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ سب کے لئے کارآمد ہو۔یہاں فلسفیوں اور سپر چولزم والوں کو چیلنج دیا گیا ہے کہ تم ایسی کتاب بنا کر دکھاؤ جس میں وہ ساری باتیں آجائیں جن کی تکمیل روحانیت کے لئے ضرورت ہے اور پھر اُس کتاب میں ایسی تعلیم ہو جس میں ساری فطرتوں کا لحاظ رکھا گیا ہو۔ایسی باتوں کی وہ کوئی مثال نہیں لا سکتے۔یہ لوگ بہت مدت سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں مگر ابھی تک تو کچھ نہیں کر سکے اور نہ آئندہ کر سکیں گے۔اول تو وہ قرآن جیسی جامع تعلیم ہی نہیں پیش کر سکتے اور اگر فرض کر لیا جائے کہ پیش کریں گے تو یا تو وہ قرآن کے مطابق ہوگی اور یا پھر قرآن کے خلاف۔اگر قرآن کے مطابق ہوگی تو اس کی ضرورت نہیں کیونکہ قرآن موجود ہے۔اور اگر قرآن کے خلاف ہوگی تو اس کا رڈ قرآن میں موجود ہو گا۔گویا کوئی کتاب ایسی نہیں ہو سکتی جو قرآن کا مقابلہ کر سکے۔کیا دنیا میں کوئی کتاب ایسی ہے جو روحانی امور کے متعلق ایسا عظیم الشان دعویٰ پیش کر سکتی ہو؟ فطرت انسانی کی روحانی طاقتوں کا اظہار کلام الہی کے بغیر نہیں ہو سکتا اب ایک اور سوال ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ اگر روح کو بہت تھوڑا اعلم دیا گیا ہے تو وہ قرآن کریم کی تعلیم کو کس طرح سمجھ سکتی ہے۔یہ بات ایک اور آیت سے حل ہو جاتی ہے جس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روحانی طاقتوں کو فطرت انسانی سے بھی وابستہ قرار دیا ہے اور تسلیم کیا ہے کہ روح میں بھی کلام الہی موجود ہوتا ہے مگر مخفی طور پر۔اور وہ اپنے ظہور کے لئے بیرونی کلام الہی کا محتاج ہوتا ہے۔پس تھوڑا علم ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ فطرت انسانی کو روحانی طاقتوں سے لگاؤ نہیں۔لگاؤ ہے مگران طاقتوں کا ظہور سوائے کلام الہی کے نہیں ہو سکتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّهُ لَقُران كَرِيمٌ في كتب مَّكْنُونِ " یعنی قرآن کریم میں جو تعلیمات ہیں وہ فطرت انسانی میں جو كِتَبٍ مظہر روح ہے موجود ہیں کیونکہ انسان اسی شئے سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے جو اس کے اندر بھی موجود ہو۔غیر جنس اسے نفع نہیں دے سکتی۔جیسے اگر کان نہ ہوں تو سنا ناممکن ہے اور آنکھیں نہ ہوں تو دیکھنا ناممکن ہے۔یا اس کی مثال پانی کی سی ہے کہ جب اوپر سے پانی برستا ہے تو چشمے بھی جاری ہو جاتے ہیں اور اگر آسمان سے پانی نہ برسے تو چشمے بھی خشک ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جب خدا تعالیٰ کی 96