فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 434

فضائل القرآن — Page 94

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جبکہ قرآن دنیا سے اُٹھ جائے گا۔اس کی تحریر تو رہ جائے گی مگر تعلیم پر عمل کرنے والے نہ ہوں گے۔چنانچہ جب ایسا زمانہ آیا تو نہایت ہی لغو باتیں اسلام اور قرآن کی طرف منسوب ہونے لگ گئیں۔اور اس کی بے نظیر اخلاقی اور روحانی تعلیم پر پردہ پڑ گیا۔اس کے بعد فرماتا ہے إِلَّا رَحْمَةً مِّن رَّبَّكَ سوائے اس کے کہ تیرے رب کی خاص رحمت اسے دنیا میں پھر واپس لے آئے اور کوئی صورت اس کی واپسی کی نہیں ہوگی۔چنانچہ آخری زمانہ میں رسول کریم ستی سیستم کی پیشگوئیوں کے مطابق اللہ تعالٰی نے پھر اپنی رحمت کا ہاتھ لوگوں کی طرف لمبا کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ دوبارہ قرآن کریم کا دنیا میں نزول ہوا۔اب دیکھ لو۔وہی قرآن ہے جو پہلے تھا مگر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ کیسے کیسے معارف اور حقائق نکل رہے ہیں اور کس طرح قرآن ساری دنیا پر غالب آ رہا ہے۔در حقیقت اس آیت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی خبر دی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ قرآن اس وقت دنیا سے اُٹھ جائے گا۔مگر پھر خدا تعالیٰ کے ایک فرستادہ کے ذریعہ اسے زمین پر قائم کر دیا جائے گا۔سپر چولزم اور ہپنا ٹزم والوں کو چیلنج 94 پھر فرماتا ہے قُل لَّيْنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنَّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ مِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا۔تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ اگر جن و انس بھی مل جائیں تب بھی وہ اس قرآن کی مثل یعنی روحانی ترقیات کا راستہ بتانے والی تعلیم لانے سے قاصر رہیں گے۔یہاں جن سے مراد وہ جن نہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ لوگوں کے سروں پر چڑھ جاتے ہیں۔ایسے چنوں کے متعلق یہ کہنا کہ ان کو بھی اپنے ساتھ ملالو بیہودہ بات ہے۔یہ تو ایسا ہی ہوگا جیسے کہا جائے کہ تم خواہ فلاں درخت سے مدد لے لو یا فلاں بھیٹر سے امداد حاصل کر لو تو بھی فلاں شاعر جیسے شعر نہیں کہہ سکتے۔جس طرح یہ بات لغو ہے اسی طرح ایسے جنوں کے متعلق یہ کہنا کہ ان سے مدد لے لو لغو بات ہے پس یہاں چن سے مراد کوئی اور وجود نہیں ہیں۔۔