حضرت فاطمہ ؓ بنت خطاب — Page 4
حضرت فاطمہ بنت خطاب 4 کچھ نہ کھایا نہ پیا۔بار بار یہی پوچھتے کہ رسول اللہ علیہ کس حال میں ہیں۔ام الخیر جو ابھی مسلمان نہیں ہوئی تھیں ہر دفعہ یہی کہتیں خدا کی قسم مجھے تمہارے ساتھی کی کچھ خبر نہیں۔ادھر حضرت ابو بکر کو ایک ہی فکر لاحق تھی کہ رسول اللہ نے کس حال میں ہیں۔انہوں نے اپنی والدہ کو کہا کہ وہ ایک خاتون ام جمیل کے پاس جائیں۔بیٹے کی بیقراری کو دیکھ کر آپ کی والدہ ام جمیل کے پاس پہنچیں اور کہا کہ:۔ابو بکر سخت پریشان ہیں اس نے تم سے صلى الله محمد ( ) بن عبد اللہ کا حال پو چھا ہے" ام جمیل بڑی دور اندیش اور معاملہ فہم تھیں ان کو یہ پتہ تھا کہ صلى الله اُم الخیر ا بھی اسلام نہیں لائیں۔اس لئے انہیں محمد ملنے کا پتہ اور خبر نہ دی اور خود ابوبکر کے پاس جانے کو تیار ہو گئیں۔ام جمیل نے جب ابوبکر کو اس قدر زخمی اور شدید تکلیف کی حالت میں دیکھا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔اور دکھ سے آپ کے منہ سے یہ الفاظ نکلے:۔خدا کی قسم جن لوگوں نے آپ سے یہ سلوک کیا ہے وہ کافر اور فاسق ہیں مجھے امید ہے اللہ تعالی ضرور ان سے بدلہ لے گا ؟ پھر انہوں نے بھی حضرت ابو بکر سے کچھ کھانے پینے کی التجا کی مگر