حضرت فاطمہ ؓ بنت خطاب

by Other Authors

Page 3 of 17

حضرت فاطمہ ؓ بنت خطاب — Page 3

حضرت فاطمہ بنت خطاب غصہ میں آکر نہایت بے دردی سے ان افراد کو مارنا شروع کر دیا خاص طور پر ان کے تشدد اور ظلم و ستم کا نشانہ حضرت ابو بکر صدیق ہی تھے۔ایک دفعہ عتبہ بن ربیعہ جو سردارانِ قریش میں بڑا مقام رکھتا تھا۔وہ اس قدر غصے میں آیا، کہ اس نے حضرت ابو بکر صدیق کے چہرہ مبارک پر اپنے سخت تلے والے جوتے سے پے در پے ضر ہیں لگا ئیں اور پھر ان کے پیٹ پر چڑھ کر کودتا رہا۔اس مار پیٹ سے حضرت ابوبکر صدیق شدید زخمی ہو کر بے ہوش ہو گئے۔تو آپ کے خاندان والوں نے قسم کھائی کہ اگر ابوبکر زندہ نہ بچے تو ہم انتقاماً عتبہ بن ربیعہ کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔دشمن کے منصوبے کچھ اور تھے تقدیر کچھ اور فیصلہ کر چکی تھی۔جب حضرت ابو بکر صدیق کو ہوش آیا تو سب سے پہلے جو الفاظ زبان مبارک سے نکلے وہ یہ تھے:۔وو رسول اللہ ملنے کا کیا حال ہے؟“ یہ سن کر بنی تمیم کے لوگ ( جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے ) طعنے دینے لگے کہ اس حالت میں بھی محمد نے کا خیال نہیں چھوڑتے۔اسی غصہ میں وہ سب اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے اور جاتے وقت حضرت ابو بکر کی والدہ ، ام الخیر کو کہہ گئے کہ تم خود ہی اس کی دیکھ بھال اور تیمارداری کرو جب یہ لوگ چلے گئے، تو اُم الخیر نے آپ کو کھانے کے لئے کہا۔والدہ کے بے حد اصرار کے باوجود آپ نے