حضرت فاطمہ ؓ بنت خطاب — Page 5
حضرت فاطمہ بنت خطاب حضرت ابو بکر نے یہی جواب دیا کہ پہلے رسول اللہ ﷺ کا حال بتاؤ۔ام جمیل نے کہا آپ کی والدہ سن لیں گی۔حضرت ابو بکر انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمانے لگے کہ ” تم میری ماں کی طرف سے خطرہ محسوس نہ کرو۔آپ کی والدہ کی طرف سے مطمئن ہو کر ام جمیل نے کہا:۔صلى الله الحمد للہ رسول خدا علی بخیر و عافیت ہیں ، آپ فکر نہ کریں۔حضور یہ اس وقت دار الارقم میں موجود ہیں۔“ حضرت ابوبکر کہنے لگے:۔صلى الله خدا کی قسم جب تک رسول اللہ ﷺ کو دیکھ نہ لوں گا ، کچھ نہ کھاؤں گا ، نہ پیوں گا ! الله پس آپ کی یہ محبت اور اصرار دیکھتے ہوئے ام جمیل اور اُم الخیر حضرت ابو بکر صدیق کو سہارا دیتی ہوئی نکل کھڑی ہوئیں اور دار الارقم میں سرور کائنات علی کی خدمت میں لے گئیں۔سرکار دو عالم حضرت ابو بکر کو دیکھتے ہی آگے بڑھے اور انہیں گلے سے لگایا اور پیشانی چوم لی۔یہ منظر دیکھا تو وہاں موجود صحابہ پر رقت طاری ہوگئی۔اسی دوران حضرت ابو بکر کو اپنی والدہ کا خیال آیا۔ایک محبت بھری نظر اپنی ماں پر ڈالی اور رحمت اللعالمین کی طرف دیکھ کر فرمایا :۔"یا رسول الله الله امیری مادر محسنہ (اُم الخیر) 66 کی ہدایت کے لئے دعا کریں۔“