فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار

by Other Authors

Page 25 of 31

فتح مباھلہ یا ذلتوں کی مار — Page 25

۲۶ تھی کہ احمدیہ جماعت احمدیہ کا سورج مولوی منظور چنیوٹی صاحب نے اگست ۱۹۸۹ء میں یہاں لندن ختم نبوت کانفرنس میں یہ بڑہانی سلطنت برطانیہ کی طرح جماعت احمدیہ کا سورج غروب ہو چکا ہے۔کسی ملک میں اس کا وجود نہیں۔جماعت احمد یہ اپنی موت کی آخری ہچکی نے رہی ہے۔" " روزنامه ملت لندن ۲۰۱۹ اگست ۶۱۹۸۹ ) اللہ تعالی نے ان کو ذلیل و رسوا کیا۔ان کے اس بیان کے بعد مباہلہ کے سال کی کانفرنس میں جو کہ لندن میں ہوئی ۱۴ اگست ۱۹۸۹ء کے اخبار ” The Guardian " کے بیان کے مطابق ان کے جلسے کی حاضری تین صد سے کم رہی اور دوسری طرف اس کے مقابل پر اسی اخبار کے بیان کے مطابق جماعت احمدیہ یو کے کے جلسہ کی حاضری ۱۵ ہزار سے زائد رہی۔مباہلہ کے سال سے پہلے کا بھی جائزہ لے لیں تاکہ پتہ چل جائے کہ یہ بد بختی اور ذلت انہیں محض اور محض مباہلہ کے نتیجہ میں ملی۔چنانچہ ۱۹۸۷ء کی ختم نبوت کانفرنس میں ان کی حاضری " اخبار وطن " کی اشاعت ۲۳ - ۳۰ دسمبر ۱۹۸۷ء کے مطابق چھ ہزار تھی۔اور اسی اخبار وطن " کی اشاعت ۱۹ تا ۲۹ اگست ۱۹۸۷ کے بیان کے مطابق جماعت احمدیہ کی ۱۹۸۷ء کی سالانہ کانفرنس میں سات ہزار احمدیوں نے شرکت کی۔جماعت احمدیہ کے جلسہ کی حاضری کا سات ہزار سے بڑھ کر مسائلہ کے سال کے جلسہ سالانہ میں پندرہ ہزار یعنی دوگنی سے بھی زیادہ ہو جانا اور ادھر ان مخالفین کے جلسہ کی حاضری کا چھ ہزار سے گر کر تین سو سے بھی کم ہو جانا گویا ہیں گنا کم ہو جانا نہ صرف مولوی صاحب کے لئے بلکہ ان کی قبیل کے دوسرے مولویوں کے لئے بھی قطعی اور کھلی کھلی ذلت کا باعث ہے۔پس جماعت احمدیہ کا سورج اپنی پوری تابانیوں کے ساتھ اپنی عظمتوں کی منازل طے کر رہا ہے جس کے مقدر میں غروب ہوتا نہیں بلکہ بلند سے بلند تر ہوتے چلے جانا ہے۔یہ وہ الہی تقدیر ہے جس کی صداقت پر مخالفین کی ہر نا کامی اور ذلت بھی گواہی دیتی ہے۔