"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 82
Ar (۱۰) قدر پھلاں دا۔۔۔۔پنجابی کے مشہور شاعر میاں محمد بخش صاحب جن کے کلام میں پنجابی تمثیلات اور مجازات کی صورت میں معرفت کے نگینے جگمگ جگمگ کرتے ہیں، فرماتے ہیں قدر پھلاں دا بلبل جانے صاف دماغاں والی قدر پھلاں دا گرج کی جانے مردے کھاون والی کہ پھولوں کی مہک ان کی رنگینی ان کے جوبن اور ان کی بہار کی قدر و قیمت کے بارہ میں پوچھنا ہو تو گدھ سے نہ پوچھو جو زندگیوں کو موت میں بدلتے ہوئے دیکھنے کی اور پھر بے بس ، مردار اور گلنے سڑنے والے جسموں کو کھانے کی خواہشمند رہتی ہے۔بلکہ ان پھولوں کی بابت بلبل سے پوچھو کہ جس کا دماغ صاف ہے۔جو لہلہاتے ، پھولنے ، پھلنے والے رنگین اور حسین پودوں کی بہاروں سے عشق رکھتی ہے کہ ان میں بڑھنے ، زندہ رہنے اور زندگیاں دینے کی صلاحیت ہوتی ہے۔وہ جانتی ہے کہ پھول کا حسن ، اس کی تابندگی اس کی مہکار اور اس کی رنگینی کی قیمت کیا ہے۔اگر حضرت عیسی علیہ السلام کے تقدس اور آپ کی سچائی کا حال دریافت کرنا ہو تو کا ئفا نامی سردار کاہن سے نہیں بلکہ پطرس یعقوب اور حکیم نیکدیموس وغیرہ حواریوں سے دریافت کرو۔اگر سرتاج انبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور آپ کے حسن و احسان کی جلوہ گری کا مشاہدہ کرتا ہو تو سردارانِ قریش سے نہیں ، ابوبکر، عمر، طلحہ اور مقداد بن اسود رضوان اللہ علیم و غیر ہم سے پوچھو کہ جو کہتے تھے کہ " یا رسول اللہ ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی ، آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی۔دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے " یا پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آنکھ سے ذرا حسن محمدی کا مشاہدہ کرو تو آپ کو نظر آئے گا کہ صد ہزاراں یوسفے بینم دریں چاہ ذقن واں مسیح ناصری شد از دم او بیشمار وم