"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 83 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 83

Ar حسن روئے او به از صد آفتاب و ماہتاب خاک کوئے او از صدنافه مشک تار کہ میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹھوڑی کے گڑھے میں ہی لاکھوں یوسف دیکھتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ اس کے دم سے بیشمار مسیح ناصری پیدا ہوئے۔اس کے چہرہ کا حسن سینکڑوں چاند اور سورج سے بہتر ہے اور اس کے کوچہ کی خاک تاتاری مشک کے سینکڑوں نافوں سے زیادہ خوشبودار ہے۔اور اگر حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی سیرت و سوانح کو دیکھنا ہو تو چودھویں صدی کے مولویوں کی آنکھ سے نہیں بلکہ بصیرت کی آنکھ رکھنے والے مومنین کی نگاہ سے دیکھو کہ جو مسیح و مہدی پر ایمان لائے۔حضرت حکیم نور الدین رضی اللہ عنہ کے مقام بلند کو کون نہیں جانتا۔مشہور مسلم لیڈر سرسید احمد خان بانی یونیورسٹی علی گڑھ کہا کرتے تھے کہ جب کوئی عالم ترقی کرتا ہے تو وہ فلسفی بن جاتا ہے اور جب فلسفی ترقی کرتا ہے تو وہ صوفی بن جاتا ہے اور جب صوفی ترقی کرتا ہے تو نور الدین بن جاتا ہے۔" (حیات نور صفحه ۲۳۲) اس نور الدین کی آنکھ سے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو دیکھو کہ اس نے جب آپ کو دیکھا تو کیا شہادت دی۔وہی نور الدین آپ پر ایمان لایا تو اس کو کیا ملا۔- فرمایا۔” میں نے یہاں وہ دولت پائی ہے جو غیر فانی ہے جس کو چور اور قزاق نہیں لے جا سکتا۔مجھے وہ ملا ہے جو تیرہ سو برس کے اندر آرزو کرنے والوں کو نہیں ملا۔فرمایا - " ہم کیا اور ہماری ہستی کیا۔ہم اگر بڑے تھے تو گھر رہتے پاکباز تھے تو پھر امام کی ضرورت ہی کیا تھی۔اگر کتابوں سے مقصد حاصل ہو سکتا تو ہمیں کیا حاجت تھی۔ہمارے پاس بہت سی کتابیں ہیں مگر نہیں ! ان باتوں سے کچھ نہیں بنتا " چشتی صاحب ! آپ نے تو اپنی کتاب ” فاتح قادیان " کے صفحہ 9 پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تعارف اس طرح کرایا ہے۔کہ