"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 8
پیر صاحب نے نہایت سادگی سے اصل بات تو لکھ دی مگر جب ان کے مریدوں میں اس کے عام چرچے ہوئے تو انہیں اپنے مریدوں کے کھسکنے کا زبر دست خطرہ پیدا ہو گیا۔چنانچہ انہوں نے۔۔اپنے واضح بیان پر پردہ ڈالنے کے لئے عجیب عجیب تو جیہات کرنا شروع کر دیں۔چنانچہ ایک مرید عبد الہادی نامی کو لکھا " آپ بے فکر رہیں۔کوئی فقرہ حکمت اور صداقت سے انشاء اللہ خالی نہ ہو گا۔لفظ تألیف اور طبع کے معنی نہ سمجھنے سے انہوں نے کہا جو کچھ کہا۔وھو مولنا و عليهم سيظهر - ان سے یہ پوچھنا کہ ایجاد مضامین اور تالیف میں عموم خصوص من وجہ ہوا کرتا ہے۔بھلا مجھ کو یہ بتاؤ کہ دوسرا کاغذ جو مولوی نور الدین صاحب کو پہنچا ہے۔ذرا اس کی نقل بھی منگوا کر ملاحظہ کرو۔والسلام - مہر شاه بقلم خود۔- १९ الحکم ۲۴- اپریل ۱۹۰۰ء صفحہ ۷ کالم ۲) - ایک دوسرے مرید غلام محمد کلرک دفتر اکاؤ ٹمنٹ پنجاب کو لکھا مولوی نور الدین صاحب کی درخواست کے بارہ میں نیز وصف میرے علم کے جو کہ ان کو بذریعہ احباب پہنچی تھی اس کے بارہ میں نے لکھا تھا جس کا مضمون یہ ہے کہ میں تو اتنا علم نہیں رکھتا ہوں ( احباب نے حسن ظن کے مطابق تعریف کی ہو گی اور کتاب کے بارہ میں مولوی محمد غازی صاحب جب واپس آئے تو لکھیں گے کیونکہ تجسس اور دیکھنا ان کے متعلق تھا میں مضامین غیر مرتبہ بسا اوقات ان کو دیتا رہا اور تالیف یعنی جمع و ترتیب و طبع کرانا یہ سب ان کے متعلق تھی۔جناب مولوی نور الدین صاحب نے تالیف سے جو منسوب مولوی محمد غازی صاحب کی طرف کی گئی تھی اور فی الواقعہ یونہی تھا یہ سمجھ لیا کہ موجد مضامین اور مصنف مولوی صاحب فلاں نے یعنی میں نے اس کی تصنیف اور ایجاد سے انکار کیا تھا کبھی مؤلف اور موجد ایک ہی ہوتا ہے اور کبھی مختلف۔میں نے بباعث کم فرصتی کے جمع اور ترتیب ان کے ذمہ رکھا تھا۔الغرض جو مطلب تھا یعنی لوگوں کا ا دھوکہ نہ کھانا وہ تو بفضل خدا بخوبی حاصل ہو گیا بذریعہ خطوط روز مرہ مقبولیت کتاب معلوم ہوتی رہتی ہے۔باقی زید و عمرو سے کچھ غرض نہیں زیادہ سلام۔“ - (الحکم ۲۴ اپریل ۱۹۰۰ء۔صفحہ ۷ کالم ۳)