"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 7 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 7

مخالفت پر کمربستہ ہو گئے۔اور آپ کے خلاف اردو میں ایک کتاب " شمس الہدایہ فی اثبات حیات المسیح " شائع کی۔یہ کتاب جب حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب کو پہنچی تو انہیں بڑا قلق ہوا۔زیادہ تعجب حضرت مولوی صاحب کو اس پر ہوا کہ کچھ عرصہ قبل پیر صاحب ہی نے ان کے نام دو کارڈ لکھے تھے جن میں حضرت اقدس کا تذکرہ عقید تمندانہ الفاظ میں موجود تھا جس کی وجہ سے حضرت مولوی صاحب کو خود پیر صاحب سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہو چکا تھا۔بہرحال اب جو ان کی طرف سے یہ کتاب پہنچی تو حضرت مولوی صاحب نے پیر صاحب کے نام (۱۸ - فروری ۱۹۰۰ء ) کو ایک مراسلہ لکھا جس میں پیر صاحب سے گیارہ سوالات کئے جو ابتدائی مطالعہ سے آپ کو پیدا ہوئے تھے۔"شمس الہدایہ " میں ابن جریر اور تاریخ کبیر بخاری کے حوالے دیئے گئے تھے۔جن کے متعلق آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ آپ نے وہ خود ملاحظہ کی ہیں اور کیا آپ کے کتب خانہ میں موجود ہیں ؟ چند دن بعد پیر صاحب کا جواب آیا تو اصل حقیقت کا پتہ چلا کہ یہ کتاب تو ان کے ایک مرید مولوی محمد غازی صاحب کی تالیف کردہ ہے۔مگر مرید نے کتاب شائع کروا کے اسے " زبدۃ محققین و رئيس العارفین مولانا حضرت خواجہ مہر علی شاہ صاحب ادام اللہ فیوضہم " کی طرف منسوب کر دیا ہے۔چنانچہ پیر صاحب نے لکھا۔مولانا المعظم المكرم السلام علیکم و رحمتہ - اما بعد مولوی محمد غازی صاحب کتب حدیث و تغییر اپنی معرفت سے پیدا کر کے ملاحظہ فرماتے رہے ہیں۔مولوی صاحب موصوف آج کل دولت خانہ کو تشریف لے گئے ہیں۔مولوی غلام محی الدین اور حکیم شاہ نواز وغیرہ احباب نے میری نسبت اپنے حسن ظن کے مطابق آپ کے سامنے بیان کیا ہو گا ورنہ من آنم کہ من دانم۔مولوی صاحب نے اپنی سعی اور اہتمام سے کتاب شمس الہدایہ کو مطبوع اور تالیف فرمایا ہاں احیاناً اس بے بیچ سے بھی اتفاق استفسار بعض مضامین میں ہوا۔جس وقت مولوی صاحب واپس آئیں گے کیفیت کتب مسئولہ اور جواب سرفراز نامہ اگر اجازت ہوئی تو لکھیں گے اللہ تعالی جانبین کو صراط مستقیم پر ثابت رکھے۔زیادہ سلام - نیازمند علماء و فقرا مهر شاه - ۲۶ شوال ۱۳۱۷ء " ( مطابق ۲۸ مارچ ۱۹۰۰ ء ) ا حکم ۲۴ - اپریل ۱۹۰۰ء صفحہ سے کالم نمبر (۴)