"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں

by Other Authors

Page 9 of 99

"فاتح قادیان" یا گستاخ اکھیں — Page 9

حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی طرف سے خطوط کی اشاعت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اس دور نگی پر خاموش نہ رہ سکے اور انہوں نے ۲۴۔اپریل 1900ء کے اخبار الحکم میں یہ بھی مراسلات شائع کر دیئے اور ان سوالات کے جوابات کا دوبارہ مطالبہ کرتے ہوئے اصل واقعات سے نقاب اٹھایا جس سے پیر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الهام انى مهمن من اراد اهانتک (کہ جو تیری تو ہین کا ارادہ کرے گا میں اسے ذلیل کردوں گا) کے کھلے کھلے مصداق بن گئے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے اس مضمون کی اشاعت کے بعد باقاعدہ ایک محاذ قائم ہو گیا۔پیر صاحب نے اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے مولوی محمد غازی صاحب سے ایک اشتہار دلایا کہ "مولانا حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب نے مولوی نور الدین صاحب کے سوالات کا جواب تو پہلے دن ہی لکھ رکھا تھا مگر بوجوہ اسے ان کی خدمت میں بھیجوایا نہیں گیا لیکن اب چونکہ الحکم میں ان استفسارات کے دوبارہ جواب طلب کئے گئے ہیں اس لئے وہ جواب شائع کئے جاتے ہیں۔اس کے بعد پیر صاحب کے لکھے ہوئے جواب درج کئے۔یہ جوابات ان کے گذشتہ خطوط سے بھی زیادہ مہمل تھے۔نہ ان کی الماء صحیح تھی نہ انشاء۔نہ ان کی زبان درست تھی نہ خیال۔محض بے ربط " بے جوڑ اور غیر تسلی بخش تحریریں تھیں۔مولوی سید محمد احسن صاحب کی طرف سے دعوت مباحثہ جہاں تک کتاب "شمس الہدایہ فی اثبات حیاۃ المسیح کا تعلق ہے اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کو ثابت کرنے کے لئے پیر صاحب نے مولوی محمد غازی کی اوٹ میں بہت زور لگایا مگر یہ حقیقت پیر صاحب سے کلیتہ " او جھل رہی کہ نہ کبھی کچے دلائل نے ساتھ دیا ہے اور نہ کچی ڈور کبھی سہارا دیتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیش کردہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے متعلق معقولی و منقولی دلائل تو اپنی جگہ ناقابل تسخیر چٹان کی طرح قائم اور سربلند رہے البتہ آپ کے ایک صحابی حضرت سید محمد احسن صاحب امروہوی نے پیر صاحب کے نام سے شائع شدہ کتاب شمس الہدایہ کے تو میں ایک معرکہ آراء کتاب لکھی جس کا نام " شمس بازغہ " رکھا۔