فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 109 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 109

1۔9 کئے یہ سب آغاز اسلام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ ہو چکے ہیں جس وقت مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو ان کی عورتیں بھی محض اس لئے چھین کر اُن سے الگ کر دی گئیں کہ اُن کے خاوند مسلمان ہو چکے تھے بچوں کو ماں سے یا باپ سے اس لئے الگ کر دیا گیا کہ وہ مسلمان ہو چکے تھے۔یہ تمام تر سلوک جماعت احمدیہ کے ساتھ ہوتے رہے اور آج بھی جاری ہیں یہ ہیں ما انا علیہ واصحابی کے نمونے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا والوں کے سامنے کیا پیش فرمایا جسکی مخالفت تمام کو تمام لوگوں نے کی وہ تھا اعلان توحید - لا اله الا الله اور اعلان رسالت محمد رسول اللہ جو لوگ بھی اس اعلان پر لبیک کہتے اُن کے ساتھ کیا سلوک ہوتا یہ بھی کسی پر پوشیدہ نہیں اور یہی دین اسلام کی بنیاد تھی اور ہے صرف دو واقعات پیش کر دیتا ہوں ویسے تو تاریخ اسلام ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔سیدنا بلال بن رباح امیہ بن خلف کے ایک حبشی غلام تھے۔امید ان کو دوپہر کے وقت جبکہ اوپر سے آگ برستی تھی اور مکہ کا پتھریلا میدان بھٹی کی طرح تپتا باہر لے جاتا اور ننگا کر کے زمین پر لٹا دیتا اور بڑے بڑے گرم پتھر اُن کے سینہ پر رکھ کر کہتا کہ رات اور غزنی کی پرستش کرہ اور محمد اسے علیحدہ ہو جا ور نہ اسی طرح عذاب دے کہ ماروں گا۔بلال " زیادہ عربی نہ جانتے تھے۔بس صرف اتنا کہتے احد احد یعنی اللہ ایک ہی ہے اللہ ایک ہی ہے اور یہ جواب سن کہ امیہ اور تیز ہو جاتا اور اُن کے گلے میں رستہ ڈال کر انہیں شریر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور وہ ان کو مکہ کی پتھریلی گلی کوچوں میں گھسٹتے پھرتے جس سے اُن کا بدن خون سے تر بتر ہو جاتا مگر ان کی زبان پر سوائے احدا حد کے اور کوئی لفظ نہ آتا۔۲۔حضرت خباب بن الارث یہ بھی ایک غلام تھے ان کے متعلق آتا ہے