فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 3
سے کیا گیا۔اسی بات کا ذکر کرتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ما يقال لَكَ الأَمَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبلِكَ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَ لار ذُو عقاب اليم ( حم السجده آیت ۴۴) یعنی تجھ سے صرف وہی باتیں کہی جاتی ہیں جو مجھ سے پہلے رسولوں سے کہی گئی تھیں تیرا رب بڑا بخشش والا ہے اور اس کا عذاب بھی دردناک ہوتا ہے۔اسی طرح ایک مقام پر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔سَاحِرُ طَاغُونَ ساحر او مجنونه الوَا صَوابِةٍ بَلْ هُمْ قَوْمٍ الذریت آیت ۵۳ - ۵۴) یعنی اسی طرح اس سے پہلے جو رسول آتے رہے ان کو لوگوں نے یہی کہا تھا کہ وہ دلفریب باتیں بنانے والے یا مجنوں ہیں۔کیا وہ اس بات کے کہنے) کی ایک دوسرے کو وصیت کر گئے ہیں ہر گز نہیں) بلکہ وہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں۔داسی لئے ایک ہی قسم کے گندے خیالات اُن کے دل میں پیدا ہوتے ہیں۔قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ انبیا ء پر ایمان لانے والے لوگوں کو انکار کر نے والوں کی طرف سے ہمیشہ تکالیف کا سامنا رہا۔ایمان لانے والے ستائے اور مارے جاتے اور مال و اسباب سے محروم کئے جاتے رہے اور کسی ایک جگہ بھی ایسا دیکھنے کو نہیں تھا کہ ایمان لانے والوں نے انکار کرنے والوں کے ساتھ اس قسم کا سلوک کیا ہو۔انبیاء کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس زمانہ کے بڑے بڑے لوگوں نے انبیاء اور اُن پر ایمان لانے والوں پر کفر کے فتوے دیتے اور اُن کی جانوں اور مالوں کو حلال قرارہ دیا اور جائز سمجھا۔یہ کفر کے فتوے ایمان لانے والوں پر ہمیشہ سے لگتے رہے ہیں۔اور انہیں فتووں کی بدولت ہر زمانہ نہیں لوگوں کا