فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 4
خون بہایا جاتا رہا۔حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کا واقعہ قرآن کریم میں درج ہے۔دونوں بیٹوں نے قربانی کی ایک کی قربانی قبول ہوئی دوسرے کی نہ ہوئی تو جس بیٹے کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی اس نے اپنے بھائی پر فتوی جاری کیا اور کہا کہ میں تجھ کو قتل کر دوں گا اور پھر ایسا ہی کیا۔حضرت نوح علیہ السلام نے جب لوگوں میں تبلیغ کی تو اس پر اُن بڑے لوگوں نے جنہوں نے اس کی قوم میں سے انکار کیا تھا اُسے کہا کہ ہم تجھے اپنے جیسے ایک آدمی کے سوا کچھ نہیں سمجھتے اور نہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سوائے ان لوگوں کے جو سرسری نظر میں ہم میں سے حقیر ترین نظر آتے ہیں کسی نے تیری پیروی اختیار کی ہو۔اور ہم اپنے اور پر تمہاری کسی قسم کی کوئی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو۔( ہود آیت ۲۸) حضرت آدم علیہ السلام پر فتویٰ دیا گیا اور یہ فیصلہ کیا کہ ان کو آگ میں ڈال دیا جائے اس کے سوائے اور کوئی علاج نہیں۔حضرت موسی علیہ السلام نے فرعون کے سامنے جب ساحروں سے مقابلہ کیا تو ساحہ ہار گئے اور حضرت موسی " پر ایمان لے آئے تو فرعون نے ان کے خلاف فتوی دیا کہ تم میری اجازت کے بغیر اس موسی " پر ایمان لے آئے ہوا اس کی سنرا یہ ہے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پیر خالف سمتوں سے کاٹ دوں گا اور تم کو صلیب دونگا حضرت عیسی علیہ السلام نے جب دعوی فرمایا تو ان کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا اور سیہودی فریسیوں نے آپ کے خلاف بھی فتوی دیا جیسا کہ لکھا ہے۔پھر وہ یسوع کو سردار کاہن کے پاس لے گئے اور سب سردار کا ہن اور بزرگ اور فقیہہ اس کے ہاں جمع ہو گئے۔اور پطرس فاصلے پر اُس کے پیچھے پیچھے سردار کا سن کے دیوان خانے کے اندر تک گیا۔اور پیادوں کے ساتھ بیٹھ کر آگ تاپنے لگا۔اور سردار کا ہن اور سارے صدر عدالت والے یسوع کے مار ڈالنے کے واسطے اُس کے خلاف