فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 2
يُوحِي بَعْضُهُمْ إلى بعض زُخْرُفَ الْقَولِ غُرُورًا وَلَو شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَه (الانعام آیت: ۱۱۳) یعنی اور ہم نے انسانوں اور جنوں میں سے سرکشوں کو اسی طرح ہر ایک نبی کا دشمن بنا دیا تھا۔اُن میں سے بعض بعض کو دھوکا دینے کے لئے ان کے دل میں بُرے خیال ڈالتے ہیں جو محض مجمع کی بات ہوتی ہے۔اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔پس تو اُن کو بھی اور ان کے جھوٹ کو بھی نظراندازہ کر دے۔اسی طرح ایک اور جگہ فرماتا ہے۔وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا بِي وكذلك جعلنا لكل لي عَدُوا مِنَ الْمُجْرِمِينَ وَكَفَى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَ نَصِيرًاه (الفرقان آیت : ۳۲) یعنی اور ہم نے اسی طرح مجرموں میں سے سب نبیوں کے دشمن بنائے ہیں اور تیرا رب ہدایت دینے اور مدد کرنے کے لحاظ سے (بالکل) کافی ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہر بات کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا ہے۔یہ آیات کسی تبصرہ کی محتاج نہیں ہیں۔انبیاء کی تاریخ پر نظر کریں تو ہمیں ان آیات کی صداقت روز روشن کی طرح صاف نظر آتی ہے۔ان آیات میں خدا تعالیٰ تے نبی کے دشمنوں کی نشاندہی کر دی ہے دشمن ان لوگوں میں سے پیدا ہوتے ہیں جو سرکش ہوں ملمع سازہ اور جھوٹے ہوں دھو کے باز ہوں یا پھر مجرم ہوں۔ہر نبی کے زمانہ میں ایسے لوگ ہی نبی کے دشمن بنتے رہے انبیاء کی تاریخ آپس میں بہت ملتی جلتی ہے۔انبیاء کا کردار ان کے ماننے والوں کا کر دار دوسرے زمانہ میں آنے والے نبی کے کردار اور اُن کے ماننے والوں کے کردار سے بہت ملتا ہے۔پھر انبیاء کے مخالفوں کے کردار بھی آپس میں ملتے ہیں۔جو سلوک ایک نبی کے ساتھ اور اس کے ماننے والوں کے ساتھ مخالفوں نے کیا دہی سلوک دوسرے نبی اور اُس کے ماننے والوں