فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 40
بهم ا نذیر حسین دہلوی امام لامذہباں، مجتہد نا مقلدان، محرع طرز نوی اور مبتدع آنها در وی ای نیز لکھا ہے :۔حاجز البحرين درج شده فتاوی رضویہ جلد نمبر (۲) نذیر حسین دہلوی کے پیرو کان سرش اور شیطان، خناس کے مرید ہیں۔“ ر حسام الحرمين على متحر الكفر والمین صلا حواله بریلویت تاریخ و عقائد ) غور کریں اور سوچیں کہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب جو کہ نذیر حسین صاحب دہلوی کے شاگرد خاص ہیں۔اور کفر کا فتونی حاصل کرنے کے لئے جن کے پاس پہنچے تھے) وہ کہاں کھڑے ہیں، سرکش، شیطان یا خناس کے مرید اب اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دیئے گئے کفر کے فتوے کی کیا حیثیت باقی رہتی ہے۔۳۔ایک جگہ لکھا ہے: تم پر لازم ہے کہ عقیدہ رکھو بے شک نذیر حسین دہلوی کا فرد مراد ہے اور اس کی کتاب "معیار الحق کفری قول اور نجس تر از بول رہی ہے۔رہا یہ کی دوسری کتابوں کی طرح " روایان باغ سبحان السبوح از احمدرضا مه ۱۳۶: حوالہ بریلویت (۳۱) از ۴۔اسی طرح لکھا ہے:۔"جو شاہ اسماعیل اور نذیر حسین وغیرہ کا معتقد ہوا بلیس کا بندہ جہنم کا کندہ ہے اہل حدیث سب کا فرومتر یاد ہیں۔" ر سبحان السبورج ۱۳۵۰ ۱۳۶، بحوالہ بریلویت ص۲۶) ۵۔نیز لکھتے ہیں۔نذيريه لبعنهم الله ملعون و مرتد ابد ہیں ؟ فتوی رضویہ جلد ۶ منت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف کفر کے فتوے پر سب سے پہلے دستخط کرنے والے کا یہ حال دو را اندازہ کریں اور سوچیں۔اسی سے متعلق ایک فتوئی پھر سے پڑھیں۔