فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 22
عیادت حرام مر جائیں تو مسلمانوں کا سا انہیں غسل و کفن دینا حرام ، ان کا جنازہ اٹھانا حرام، ان پر نماز پڑھنا حرام۔ان کو مقابر تسلمین میں دفن کرنا حرام اور ان کی قبر پر جانا حرام (فتاوی رضویہ جلد ۶ منت) قارئین اس قسم کے اس قدر فتو بے دیئے گئے ہیں کہ عقل حیران ہوتی ہے۔میں نے تو اس جگہ چند نمونے پیش کئے ہیں۔اب دوسری طرف کے فتوے ملاحظہ فرمائیں۔بریلویوں کے خلاف فتویٰ کفر لکھا ہے :- ا۔" یہ سب تکفریں اور لعنتیں بریلوں اور اس کے اتباع کی طرف لوٹ کر قبر میں ان کے واسطے عذاب اور بوقت خاتمہ اُن کے موجب خروج ایمان دازاله تصدیق وایقان ہونگی کہ ملائکہ حضور علیہ السلام سے کہیں گے ان کا تذرِى مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ اور رسول مقبول علیہ السلام دجال بریلوی اور ان اتباع کو سُحقاً سحقاً فرما کر حوض مورود و شفاعت محمود سے کتوں سے بدتر کر کے دھتکار دیں گے اور امت مرحومہ کے اجر و ثواب و منازل ونعیم سے محروم کئے جائیں گے۔درجوم المذنبين على رؤوس الشياطين المشهور به الشہاب الثاقب على المسترق الكاذب مولفہ مولوی سید حسین احمد صاحب مدنی ناشر کتب خانہ اعزاز یہ دیوبند ضلع سہارنو) ایک جگہ لکھا ہے کہ : مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی مع از ناب و اتباع کے کافر اور جو انہیں کافر نہ کہے اور ان کو کافر کہنے میں کسی وجہ سے بھی شک و شبہ کرے وہ بھی بلاشبہ قطعی کافر ہے۔" (روالتفکیر ص) ۳۔فتاوی رشیدیہ میں لکھا ہے کہ :۔"جو شخص رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے عالم الغیب ہونے کا معتقد ہے سادات حنفیہ کے نزدیک قطعاً مشرک و کافر ہے۔“