فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 15 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 15

اور ایک جنتی ( مشکوۃ شریف صث ) آج مسلمانوں کا ہر فرقہ اپنے آپ کو جنتی قرار دیتے ہوئے دوسرے کو ناری بیان کر رہا ہے اس تعلق سے بحث آگے آنے گی۔میں اس وقت یہاں فرقہ ہائے اسلام کے ایک دوسرے کے خلاف دیئے گئے فتوؤں کے چند نمونے پیش کرتا ہوں تاکہ قارئین اندازہ کریں کہ اگر جماعت احمدیہ کو کفر کا فتویٰ دے کرہ کا فر ٹھہرایا جاتا ہے تو ان فرقوں کے تعلق سے آپ کی کیا رائے ہے جو دوسرے فرقوں کے ذریعہ کا فر قرار دیئے جاچکے ہیں۔علی شیعوں کے خلاف فتوے مسلمانوں میں عام طور پر دو فرقے بڑے مشہور ہیں ایک شیعہ اور دوسرے سنی اور یہ ہر دو فرقے ایک دوسرے کو قطعی طور پر کافر سمجھتے ہیں۔مولانا شاہ مصطفے رضا خان صاحب نے شیعوں کے خلاف فتویٰ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ۔بالجملہ ان رافضیوں برائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی اجمالی یہ ہے کہ دہ العموم کفار مرتدین ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زہنا ہے۔معاذ اللہ مرد با فضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الہی ہے۔اگر مرودشتی اور عورت ان خبیثوں کی ہو جب بھی نکاح ہرگز نہ ہو گا محض زرنا ہوگا اولاد ولد الزنا ہوگی۔باپ کا ترکہ در پائے گی اگرچہ اولاد بھی سنی ہی ہو۔کہ شرعاً ولد اللہ نا کا باپ کوئی نہیں عورت نہ ترکہ" کی مستحق ہوگی نہ مہر کی کہ زانیہ کے لئے مہر نہیں۔رافضی اپنے کسی قریبی حتی کہ باپ بیٹے ماں بیٹی کا بھی ترکہ نہیں پا سکتا بسنی تو سنی کسی مسلمان بلکہ کسی کافر کے بھی۔یہاں تک کہ خود اپنے ہم مذہب رافضی کے ترکہ میں اس کا اصلاً کچھ حق نہیں۔ان کے مرد عورت عالم، جاہل، کسی سے میں جول، سلام کلام سخت کبیرہ اشد حرام جو ان کے ملعون عقیدوں پر آگاہ ہو کر بھی انہیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کمرے با جماع تمام ائمه دین خود کا فر بے دین ہے۔اور اس کے