فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 14
اس تعلق سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں کہ :۔اس بات کو کون نہیں جانتا کہ ایک مسلمان موحد اہل قبلہ کو کافر کہ دنیا نہایت نازک امر ہے۔بالخصوص جبکہ وہ مسلمان بارہا اپنی تحریرات و تقریرات میں ظاہر کہ دے کہ میں مسلمان ہوں اور اللہ اور رسول اور اللہ جلتا نہ کے ملائک اور اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں اور بعث بعد الموت پر اُسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ اللہ جل شانہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم میں ظاہر فرمایا ہے۔اور نہ صرف یہی بلکہ ان تمام احکام صوم و صلوٰۃ کا پابند بھی ہوں جو اللہ اور رسول صلعم نے بیان فرمائے ہیں تو ایسے مسلمان کو کا فر قرار دینا اور اس کا نام اکفر اور دقبال رکھنا کیا یہ ان لوگوں کا کام ہے جن کا شعار تقویٰ اور خدا ترسی سیرت اور نیک ظنی عادت ہو۔آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلده ص۳۳) جماعت احمدیہ پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ جماعت بھی ان لوگوں کو جو مسیح موعود علیہ السلام کو تسلیم نہیں کرتے کا فر سمجھتی ہے۔اول بات تو یہ ہے کہ جماعت کسی کو اولا کا فقر قرار دے کر دین اسلام سے خارج نہیں کرتی البتہ جو شخص جماعت کو کافر قرارہ دے تو مندرجہ بالا حدیث کی روشنی میں خود کا فر قرار پاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ وضاحت کافی ہے آپ فرماتے ہیں۔یہ ایک شریعت کا مسند ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا آخر کافر ہو جاتا ہے پھر جب کہ دو سو مولوی نے مجھے کا فر ٹھہرایا اور میرے پر کفر کا فتویٰ لکھا گیا اور انہیں کے فتوے سے یہ بات ثابت ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا کافر ہو جاتا ہے اور کافر کو مومن کہنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے۔ر حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ ص۱۷) اسلام میں فرقہ بندی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی آپسی فرقہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ میری امت میں بہتر بیان فرمائی کہ ان میں سے ہوں گے فرتے ہوں گے اور ساتھ ہی یہ بات 4