فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 13 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 13

یعنی اے ایما ندارد! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو چھان بین کر لیا کرو اور جو تمہیں سلام کہے اُسے (یہ) نہ کہا کرو کہ تو مومن نہیں۔ایک طرف قرآن کریم کا یہ حکم اور دوسری طرف علمائے کفر کے فتوے۔بغور کریں اور دیکھیں کہ کیا یہ قرآن کریم کے حکم کی صریح خلاف ورزی نہیں قرآن کریم کے اس ارشاد کے بعد کسی مولوی کو کیا حق رہ جاتا ہے کہ وہ سلام کرنے وانے کو کافر کہے۔قرآن کریم نے تو ایک دوسرے مقام پر اس بات کو اور بھی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے فرماتا ہے۔قَالَتِ الأَعراب مَنا تُل سواء لكن قولوا أسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدُخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمُ (الحجرات آیت (۱۵) یعنی اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے تو اُن سے کہدے کہ کم حقیقتہ ایمان نہیں لائے۔لیکن تم یہ کہو کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں (ہم نے فرمانبرداری قبول کرتی ہے) کیونکہ (اے اعراب) بھی ایمان تمہارے دلوں میں حقیقت داخل نہیں ہوا ہے قرآن کریم کی یہ آیت عرب کے بدوؤں کا یہ حال بیان کر رہی ہے کہ ان کے دلوں میں ایمان نہیں اور دل ایمان سے خالی ہیں پھر بھی خدا اُن کو یہ اختیار دیتا ہے کہ تم اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکتے ہو۔غور کریں اور سوچیں کہ ایک مولوی کو کیا حق بنتا ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو اسے کافر قرار دے ؟ جب خدا ایک ایسے شخص کو جس کے دل میں ایمان کی حلاوت رچی نہیں اس کو بھی یہ اجازت دیتا ہے کہ تو اپنے آپ کو مسلمان کہ سکتا ہے تو پھر اس کے بعد کسی مولوی کا کیا حق باقی رہتا ہے کہ وہ کسی مسلمان کو کافر کہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :۔" اَيْمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ كَفَرَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَإِنْ كَانَ كَافِرًا و إِلا كَانَ هُو الكانسر (ابو داؤد کتاب السنة) یعنی جب کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کافر ٹھہرائے تو وہ خود کافر ہو جاتا ہے