فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 12 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 12

نہیں کریں گے۔میں نے انہیں کہا کہ آپ اُن سے سوال کریں کہ وہ آپ کو کیا مانتے ہیں کافر یا مسلمان اگر کا فر مانتے ہیں تو پھر وہ آپ سے کس طرح بات کر رہے ہیں۔نیز ا نہیں کہیں کہ چلو پھلے ہی یہ لوگ کافر ہیں لیکن ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ وہ ہیں مسلمان بنانے کے لئے ہی ہم سے بات کریں۔اس پر ان کا جواب یہ تھا کہ ہم اُنہیں مسلمان بھی بنانا نہیں چاہتے اب کہنے والے مالیگاؤں کے تمام فرقوں کے جید علماء تھے جو آپس میں پھٹے ہوئے ہیں لیکن ہمارے خلاف اکٹھے ہو کر آئے تھے۔کافر :- عربی لغت کے لحاظ سے کفر کے معنی انکار کے ہوتے ہیں جو شخص بھی کسی بات سے انکار کر دے اُس کو عربی میں کافر کہا جاتا ہے۔لیکن اصطلاحی معنی خدا اور اس کے رسول کا انکار کرنے والے کے ہیں۔یہ لفظ اپنے اصطلاحی معنوں میں اس قدر کثرت سے استعمال ہوا ہے کہ لغوی معنی اس کے اصطلاحی معنوں میں چھپ گئے ہیں۔کافر کا لفظ اس قدر عام ہو گیا کہ ایک عالم کی بات اگر دوسرے عالم کی بات سے یا ایک کے خیالات دوسرے کے خیالات سے ٹکرا جاتے تو اسے فوراً کافر کے خطاب سے نواز دیا جاتا رہا اسلام میں یہ سلسلہ خلافت حقہ اسلامیہ کے اختتام کے ساتھ ہی شروع ہو گیا پھر اپ چلا کہ اس کی زد سے نہ کوئی فرقہ بچ سکا اور نہ کوئی عالم بس ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی ایک دوڑ دکھائی دیتی ہے علماء نے اس میدان میں اس قدر ترقی کی کہ قرآن و حدیث کی تعلیم کو یکسر بھلا دیا بالکل وہی نقشہ دکھائی دیتا ہے جو قرآن و کریم میں اس طرح کھینچا گیا ہے کہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر دیکھتے نہیں، گان رکھتے ہیں، مگر وہ سکتے نہیں دل رکھتے ہیں مگر وہ سمجھتے نہیں مسلمان کون؟ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :- يايها الذِينَ آمَنُوا اذا ضَرَ يَتُمُ في سَبيل الله فتبينوا وَلا تَقُولُوا لِمَنْ الْقَى اليَكُمُ السّلامَ لَسْتَ مُؤْمِناً۔(النساء آیت (۹۵)