فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 11
کو پیش فرمایا اسی بات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی صداقت کی دلیل دیتے ہوئے فرماتے ہیں :- " اب دیکھو خُدا نے اپنی محبت کو تم پر اس طرح پورا کر دیا ہے کہ میرے دعوی پر ہزار دلائل قائم کر کے تمہیں یہ موقعہ دیا ہے کہ تم غور کرو کہ وہ شخص جو تمہیں اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب افتراء یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرد کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افتراء کا عادی ہے یہ بھی اُس نے جھوٹ بولا ہو گا۔کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اس نے ابتداء سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے۔تذكرة الشهادتين روحانی خزائن جلد به صفحه نمبر (۶۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعویٰ سے پہلے کی زندگی ایسی پاک و مظہر تھی کہ آپ کا بڑے سے بڑا مخالف بھی آپکی سابقہ زندگی پر کوئی اعتراض نہیں کر سکا قرآن کریم کی پیش کردہ دلیل آپ کی صداقت کی ایک زبردست دلیل ہے۔آج کے دور میں جب بھی کسی سے بات کی جائے تو اس کا اقول جواب یہ ہوتا کہ آپ کو تو کافر کہا گیا ہے۔آپ کا فر ہیں اس لئے ہم آپ سے بات کرنا نہیں چاہتے کچھ عرصہ قبل مالیگاؤں میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا وہاں کے ایس پی جناب ہمانشور اسے اور ڈی انہیں پنی بہن کمار سنگھ یہ چاہتے تھے کہ ہماری علماء کے ساتھ اُن کی موجودگی میں بات ہو لیکن وہاں کے علماء ہم سے بات کرنے کو تیار نہ ہوئے۔ایک دن مقرر کیا گیا شہر کے سولہ بڑے بڑے علماء آئے باربار زور ڈالنے پر بھی انہوں نے ہم لوگوں سے بات کرنے پر آمادگی ظاہر نہ کی بلکہ ہمارے پاس بیٹھنے کو بھی تیار نہ ہوئے۔وجہ پوچھی تو ایس پی صاحب نے اور ڈی۔انہیں پی صاحب نے بتایا کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ کافر ہیں ہم ان سے بات