فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 10 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 10

نہیں ہوں۔غرض بانی استفتا بطالوی صاحب اور اول الميكفر بین میاں نذیر حسین صاحب اور باقی سب اُن کے پیرو ہیں جو اکثر بالوی ما کی دلجوئی اور دہاوی صاحب کے حق استادی کی رعایت سے ان کے قدم پر قدم رکھتے گئے۔یوں تو ان علماء کا کسی کو کافر ٹھہرانا کوئی نئی بات نہیں یہ عادت تو اس گروہ میں خاص کر اس زمانہ میں بہت ترقی کر گئی ہے اور ایک فرقہ دوسرے فرقہ کو دین سے خارج کر رہا ہے، ر آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۰ تا ۳۲) موجودہ زمانہ میں اس بات سے کوئی مسلمان انکار نہیں کر سکتا کہ ایک فرقہ دوسرے فرقہ کو کا فر قرار دیتا اور مانتا ہے بکہ بعض معمولی معمولی باتوں کو لے کر ایک دوسرے کو کافر کافر کہہ کر پکارتے ہیں۔اس کی تفصیل انشاء اللہ آگے لکھوں گا لیکن اس جگہ میں آپ پر لگائے گئے گھر کے فتوے کو آپ کی صداقت کے نشان کے طور پر بیان کرتا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والوں کو لوگ صابی" کے نام سے پکارا کرتے تھے جس کے معنی ہے دین کے ہوتے ہیں جو کہ کافر کے ہم پلہ ہے۔جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو ہر شخص یہی کہتا تھا کہ عمر سابی ہو گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک دعوی نبوت نہیں فرمایا تھا اس وقت تک سب لوگ آپ کی عزت و تکریم کرتے تھے لیکن دعوی کے بعد آپ سے سب نے نظریں پلٹ لیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے جب دعوی فرمایا تو آپ کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا جیسا کہ آپ اوپر کے اقتباس میں پڑھ چکے ہیں۔خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لئے فقد بثت فیکم عمراً مِنْ قبله افلا تعقلون والى آیت نازل فرمائی اور دنیا والوں کے سامنے یہ چیلنج رکھ دیا کہ اگر تم سچے ہو تو پھر اس کی سابقہ زندگی پر ایک بڑا نشان لگا کر بتاؤ لیکن تمام مکفرین ایسا کہ نے ہے عاجزہ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دعوی فرمایا اور آپ پر بھی کفر کے فتوے دیئے گئے تو آپ نے بھی دنیا والوں کے سامنے قرآن کریم کی اسی آیت