فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 5 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 5

گواہی ڈھونڈھنے لگے مگہ نہ پائی۔کیونکہ بہتیروں نے اُس پر جھوٹی گر اہیاں تو دیں لیکن اُن کی گواہیاں متفق نہ تمھیں پھر بعض نے اُٹھ کہ اُس پر یہ جھوٹی گواہی دی کہ ہم نے اُسے یہ کہتے سنا ہے کہ میں اس مقدس کو جو ہاتھ سے بنا ہے ڈھاؤنگا اور تین دن میں دوسرا بناؤں گا جو ہاتھ سے نہ بنا ہو۔لیکن اس پر بھی ان کی گواہی متفق نہ نکلی۔پھر سردانہ کا بہن نے نیچے کھڑے ہو کر یسوع سے پو چھا کہ تو کچھ جواب نہیں دیتا ؟ یہ تیرے خلاف کیا گواہی دیتے ہیں۔مگر وہ چپکا ہی رہا اور کچھ جواب نہ دیا۔سردار کاہن نے اس سے پھر سوال کیا اور کہا کیا تو اس ستودہ کا بیٹا مسیح ہے۔یسوع نے کہا ہاں میں ہوں اور تم ابن آدم کو قادر مطلق کی دہنی طرف میٹھے اور آسمان کے بادلوں کے ساتھ آتے دیکھو گے۔سردار کا اہن نے اپنے کپڑے پھاڑ کے کہا اب ہمیں گواہوں کی کیا حاجت رہی۔تم نے یہ کفر سُنا تمہاری کیا رائے ہے۔اُن سب نے فتوی دیا کہ وہ قتل کے لائق ہے تب بعض اُس پر تھوکنے اور اُس کا منہ ڈھانپنے اور اُس کے سکتے مارہ نے اور اُس سے کہنے لگے۔نبوت کی باتیں سُنا اور پیادوں نے اُسے طمانچے مار مارہ کے اپنے قبضے میں لیا۔" ( مرقس باب ۱۴ آیت ۵۳ تا ۶۵) کفر کے فتوے دینا ایک دبیر بیند بات ہے۔جب بھی کسی عالم نے اپنے خیالات کے فاطر کے توے دیار کی تو کفر کا فتویٰ جڑ دیا اور قسماقسم کے اس کو خطاب دیئے جیسے جادو گر۔پاگل جھوٹا مکار - فریبی وغیرہ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن کے بارے میں تمام مذاہب کی کتب میں پیشگوئیاں موجود تھیں اور لوگ منتظر بھی تھے جب آپ کو خدا تعالٰی نے مبعوث فرمایا تو لوگوں نے اس اصدق الصاد لیکن کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا۔پھر ایسا ہونا ضروری تھا چونکہ یہ سنت