فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 6
انبیاء میں سے تھا کہ آپ کے ساتھ بھی رہی سلوک ہو جو سابقہ انبیاء سے ہو چکا ہے اور پھر آئندہ کے لئے یہ ایک نشان بھی ٹھہرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالے نے جب نبوت کے انعام سے نوازا تو پہلے پہلے آپ لوگوں میں خاموش تبلیغ کرتے رہے۔لیکن جب آپؐ نے خدا تعالٰی کے حکم سے تبلیغ کو عام کرنے کا ارادہ کیا تو آپ کوہِ صفا پر چڑھ گئے اور بلند آواز سے پکار کر اور ہر قبیلہ کا نام لے لے کر قریش کو بلایا۔جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا " اے قریش ! اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑا لشکر ہے جو تم پر حملہ کرہ نے کو تیار ہے تو کیا تم میری بات کو مانو گے ؟ بظاہر یہ ایک بالکل ناقابل قبول بات تھی مگر سب نے کہا ہاں ہم ضرور مانیں گے کیونکہ ہم نے تمہیں ہمیشہ صادق القول پایا ہے۔آپ نے فرمایا " تو سنو! میں تم کو خبر دیتا ہوں کہ اللہ کے عذاب کا لشکر تمہارے قریب پہنچ چکا ہے۔خدا پر ایمان لاؤ تا اس عذاب سے بچ جاؤ " جب قریش نے یہ الفاظ سنے تو کھل کھلا کر ہنس پڑے اور آپ کے چچا ابو لہب نے آپ سے مخاطب ہو کہ کہا تَبالَكَ الهَذا جَمَعْتُنَا" محمد تو ہلاک ہو! کیا اس غرض سے تم نے ہم کو جمع کیا تھا" ؟ پھر سب لوگ ہنسی مذاق کر تے ہوئے منتشر ہو گئے۔(طبری و خمیس) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے تمام تر واقعات تاریخ اسلام میں بھرے پڑے ہیں کہ آپ نے لوگوں کو کس کس طرح دعوت اسلام دی مخالفوں نے آپ کے ساتھ اور آپ کے ماننے والوں کے ساتھ کسی کسی قسم کے سلوک کئے۔الغرض کفر بازی مخالفین کا شیوہ رہا اور کفر کے فتوے دینے والے انبیاء کے مقابلہ میں ہمیشہ ناکام ہوئے اور الہی جماعتیں ہمیشہ ترقی کرتی چلی گئیں۔موجودہ دور میں خدا تعالے نے چاہا کہ وہ سابقہ انبیاء سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرے تا دین اسلام کی حقانیت و صداقت لوگوں پر ظاہر ہوا اور قرآن کا وعدہ لیظهره علی الدین کا ہے پوری شان کے ساتھ ظاہر ہو۔اپنے اسی وعدہ