فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 104
۱۰۴ چنانچہ پادری مارٹن کلارک نے آپ کے خلاف یہ استغاثہ کیا کہ حضرت مرزا صاحب نے ایک مسلمان نوجوان کو میرے قتل کے لئے سکھا کر بھیجوایا ہے اور ایک آوارہ گردو مسلمان لڑکے کو اقبالی مجرم بنا کر عدالت میں پیش کر دیا۔اس مقدمہ میں ایک مشہور آریہ وکیل نے ڈاکٹر مارٹن کلارک کے مقدمہ کی مفت پیروی کی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بطور گواہ کے پیش ہوئے اور حضرت مرزا صاحب کو قاتل ثابت کرنے کے لئے ایک پورا جال بچھا دیا گیا۔مگر جس کو خدا بچانا چاہے اُسے کون نقصان پہنچا سکتا ہے۔خدا نے ایسا تصرف کیا کہ جس لڑکے کو اقبالی مجرم بنا کر کھڑا کیا گیا تھا اس سے اپنے بیان کے دوران میں ایسی حرکات سرزد ہوئیں کہ گورداسپور کے انصاف پسند ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کیپٹن ڈگلس کو شبہ پیدا ہوا کہ یہ سارا مقدمہ محض ایک سازش ہے چنانچہ اس نے زیادہ چھان بین کی اور لڑکے کو پادریوں کے قبضہ سے نکال کر اس پر زور ڈالا تو اس نے اقبال کر لیا کہ تجھے ہر گنہ مرزا صاحب نے کسی کے قتل کے لئے تصور نہیں کیا بلکہ میں نے عیسائی پادریوں کے کہنے کہانے سے ایسا بیان دیا تھا جس پر حضرت مسیح موعوداً بڑی تحرت کے ساتھ بری کئے گئے اور آپ کے مخالفوں کے ماتھے پر تاکامی کے علاوہ ذلت کا ٹیکہ بھی لگ گیا۔" (سلسلہ احمدیہ جت) اس مقدمہ کی پوری تفصیل " کتاب البریہ" کتاب میں موجود ہے پس آپ پر قتل کا الزام لگا کہ ہندو عیسائی مسلمان سب مل کر آپ کو سزا دلانا چاہتے تھے میں طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر نے کی سازش میں ناکانی کے بعد کفار مکہ شرمندہ اور نا کام ہوئے بالکل اسی طرح آپ کے خلاف بھی یہ لوگ نا کام اور شرمندہ ہوئے۔