فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 100 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 100

دیئے جو کہ صابی کے ہم وزن ہیں اور ہم معانی ہیں۔- ۴۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تبلیغ اسلام کو عام کیا تو آپ پر اور آپکی عبارت پر فتویٰ دیا گیا اور مقاطعہ کا اعلان کیا جیسا کہ تاریخ اسلام میں آتا ہے کہ چنانچہ اس مقاطعہ کے متعلق ایک عہد نامہ لکھا گیا۔تمام رؤساء قریش نے اس پر قسمیں کھائیں اور عہد نامہ پر دستخط کئے۔یہ دستخط شدہ عہد نامہ خانہ کعبہ میں لٹکا دیا گیا اور مقاطعہ شروع ہو گیا۔(تاریخ اسلام جلد اول ما شائع شدہ دیوبند) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میں وقت دعوئی فرمایا اور ایک جماعت آپ کے گرد جمع ہونی شروع ہوگئی تو آپ اور آپ کی جماعت پر بھی فتوے لگائے گئے اور بائیکاٹ کے اعلان کئے گئے تاریخ احمدیت میں آتا ہے کہ :- علماء کے فقروں نے ملک میں ایک آگ لگا دی۔اور علماء نے صرف قولی فتوئی ہی نہیں لگایا یعنی آپ کو صرف عقیدہ کے لحاظ سے ہی کا فراور دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا بلکہ یہ بھی اعلان کیا کہ حضرت مرزا صاحب اور آپ کے متبعین کے ساتھ کلام سلام اور ہر قسم کا ۳۴ (سلسلہ احمدیہ (ص) تعلق ناجائز اور حرام ہے یہ علماء کے اس قسم کے فتوئی کے بعد ہر کوئی جانتا ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو آغاز اسلام میں مسلمانوں کے ساتھ کفار مکہ نے کیا تھا۔آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم پر کفار مکہ نے نعوذ باللہ مجنون ہونے کا التزام لگا جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے۔لَمَّا سَمِعو الذكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ۔(العلم آیت (۵۲) یعنی جب وہ اس ذکرہ (یعنی قرآن) کو سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ شخص تو مجنون ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی لوگوں نے مجنوں کہا اور آپ کے دعاوی کو مالیخولیا اور جنون کا نتیجہ بتایا۔حضور لوگوں کی اسی بات کا جواب دیتے ہوئے