فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 99
۹۹ جھوٹا بیان کیا جانے لگا تو دنیا والوں کے سامنے اپنی سابقہ زندگی کو بطور صداقت پیش کیا اور فرمایا سون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے۔(تذکرۃ الشہادتین) گر کسی میں یہ طاقت نہ ہوئی کہ وہ آپ کی دعوئی سے پہلے کی زندگی پر اعتراض کر سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دنیا والوں کے سامنے دین اسلام کو پیش کیا اور اسلام میں داخل ہونے والے کو مسلمان کہا تو مخالفین نے آپکو اور آپ کے ماننے والوں کو بے دین اور قابی کے نام سے یاد کیا۔تاریخ میں آتا ہے کہ جب حضرت عمرہ کے اسلام کی خبر قریش میں پھیلی تو وہ سخت جوش میں آگئے۔اور اسی جوش کی حالت میں انہوں نے حضرت عمر کے مکان کا محاصرہ کر لیا۔حضرت عمر یا ہر نکلے تو ان کے ارد گرد لوگوں کا ایک بڑا مجمع اکٹھا ہو گیا اور قریب تھا کہ بعض جوشیلے لوگ اُن پر حملہ آور ہو جائیں لیکن حضرت عمرانہ بھی نہایت دلیری کے ساتھ اُن کے سامنے ڈٹے رہے۔آخر اسی حالت میں مکہ کا رئیس اعظم عاص بن وائل اوپر سے آگیا اور اس ہجوم کو دیکھ کر اس نے اپنے سردارانہ انداز میں آگے بڑھ کر پو چھا یہ کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے کہا عمر صابی ہو گیا ہے۔اس نے موقعہ شناسی سے کام لیتے ہوئے کہا تو خیر پھر بھی اس ہنگامہ کی ضرورت نہیں میں عمر کو پناہ دیتا ہوں۔حضرت عمرا عاص بن وائل کی بنیاہ میں زیادہ دیر نہ رہ ہے آپ نے خود جا کر کہہ دیا کہ میں آپ کی پناہ سے نکلتا ہوں کیونکہ آپ کی غیرت دینی نے یہ برخاست نہیں کیا تھا۔حضرت عمرؓ بیان کر تے ہیں کہ اس کے بعد میں کانہ کی گلیوں میں بس پیتا پیٹتا ہی رہتا تھا۔د زرقانی بحوالہ سیرت خاتم النبييني حصه اول ما اس زمانے کے علماء نے بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام کو اور آپ کی جماعت کو بھی بے دین کا فراغر مسلم کے القاب