فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 154 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 154

تاخیر بیان وغیرہ کے انکار پر الزام افعال حج کے بیان میں حج نبوی کا قصہ دیکھ جائو اور اس میں جن لوگوں سے رَمی اور ذَبح اور حَلق وغیرہ کی تقدیم اور تاخیر ہو گئی ان کی نسبت حضرت امام اعظم سیّد ولد آدم شفیع الامم صلی اللہ علیہ و سلم کا فتویٰ۔اِفْعَلْ وَلَاحَرَجَ۔اِفْعَلْ وَلَاحَرَجَ۔{ FR 5304 }؂ پڑھو۔پھر اپنے وجوب دم کا حکم اس کے مقابلہ لاکر دیکھو۔اور سوچو کہ تاخیر بیان یا عدم نقل حکم وجوب دم موجود ہے یا نہیں۔اور جس شخص نے صحابہ میں سے اپنی بی بی کے ساتھ رمضان میں بحالتِ صوم جماع کیا اور تمرات عطیہ نبویہؐ بھی اپنے گھر والوں کو ہی کھلا دیں۔اس کے حق میں آپ کا فتویٰ ہے کہ کفارہ اور قضا اس کے ذمہ رہا حالانکہ کسی حدیث میں ثابت نہیں ہوا کہ اسے رسول اللہؐ نے کفارے اور قضا کا حکم دیا۔پس یا تو تاخیر بیان مانا یا عدم نقل کو نقل عدم نہ کہا یا یہ کہو گے اِنَّ لزومہا کان ظاهرًا وان وجوبھما کان مشهورًا { FR 5305 }؂ جو عذر یہاں تراشو وہی۔ابوبکرہ کے قصہ میں قراءت فاتحہ کے واسطےسمجھ لو۔۱۱۔جواب۔لاتعد بفتح تا اور ضم عین عود سے صحیح روایت میںآیا ہے اگر آپ لوگوں نے عدو یا اعادہ سے مشتق مانا تو لاتعد محتمل ہوا وَ اِذَا جَآءَ الْاِحْتِمَالُ بَطَلَ الْاِسْتِدْلَالُ۔{ FR 5306 }؂ تیسراسوال۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا: إِذَا جِئْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَنَحْنُ سُجُوْدٌ فَاسْجُدُوْا، وَلَاتَعُدُّوْهَا شَيْئًا، وَمَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ۔{ FR 4778 }؂ یہاں رکعت سے رکوع مراد { FN 5304 }؂ یوںکر لو (اس میں) کوئی حرج نہیں‘ یوںکر لو (اس میں) کوئی حرج نہیں۔{ FN 5305 }؂ یقیناً اس کا ضروری ہونا ظاہر ہے اور ان دونوں کا واجب ہونا مشہور ہے۔{ FN 5306 }؂ جب امکان موجود ہو تو استدلال زائل ہوجاتا ہے۔{ FN 4778 }؂ حضرت ابوہرہرہؓ سے مرفوع روایت ہے کہ جب تم نماز کے لیے آؤ اور ہم سجدہ میں ہوں، تو تم بھی سجدہ کرو اور اسے کچھ بھی شمار نہ کرو۔اور جس نے رکوع پالیا اُس نے نماز کو پالیا۔(سنن أبي داؤد، کتاب الصلاة، تفریع أبواب الرکوع والسجود، بَابٌ فِي الرَّجُلِ يُدْرِكُ الْإِمَامَ سَاجِدًا كَيْفَ يَصْنَعُ)