فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 155
ہے نہ مجموعہ قیام اور رکوع۔۱۔جواب۔یہ حدیث منکر ہے اس کا راوی یحییٰ بن سلیمان المدنی منکر الحدیث ہے۔قالہ البخاری یحییٰ کا سماع زید اور ابن المقبری سے ثابت نہیں وَلَا تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ كَمَا قَالَ الْبُخَارِيُّ۔{ FR 5309 } ۲۔جواب۔رکعت کے شرعی اور عرفی معنے چھوڑنے اور مجاز شرعی (گو وہ حقیقت لغوی ہے) لینے پر کس نے مجبور کیا۔شرع نے بدوں قرینہ کہیں رکعت کے معنی رکوع نہیں لئے اور شرعی رکعت میں قیام‘ قراءت‘ رکوع‘ سجود سب کچھ ہے۔۳۔جواب۔جواب یہاں فرضیت فاتحہ کے ادلّہ رکعت کے معنے رکوع لینے کے خلاف ہیں پس صارف عن المجاز موجود ہو گیا۔۴۔جواب۔یہاں رکعت بمقابلہ سجدہ نہیں بلکہ جملہ بمقابلہ جملہ ہے پس مقابلہ کا قرینہ صارف عن الحقیقت نہ ہوا۔۵۔جواب۔اگر یہاں رکعت کے معنے رکوع ہیں تو حسبِ حدیث قیام بقدر طمانینت اور سجود اور تکبیر بھی فرض رہی یا نہیں۔اگر ہیں تو گذارش کہ حدیث میں مذکور نہیں اگر کہو اور اور احادیث سے یہ چیزیں ثابت ہیں تو عرض ہے کہ ایسے ہی اور احادیث سے قراءت ثابت ہے۔اگر کہو یہ باتیں فرض نہیں تو خلاف ِاجماع اور خلافِ حنفیہ ہے۔۶ـ۔جواب۔اگر رکعت سے مراد رکوع ہے تو صلوٰة سے خواہ مخواہ آپ کو تمام رکعت لینا پڑا کیونکہ بقول آپ کے یہ ترجمہ ہو گا جس نے رکوع پایا اس نے صلوٰة پائی۔اور ظاہر ہے کہ صرف رکوع سے نماز نہیں ہوتی جب صلوٰة کے معنے رکعت تامہ ہوئے تو آپ کو یاد دلادیں گے کہ صحیح حدیث میں آیا ہے لاصلوٰة لمن لم یقرأ بفاتحة الکتاب یعنی کوئی پوری رکعت نہیں اس کی جس نے فاتحہ نہ پڑھی پس ہر رکعت میں فاتحہ فرض ہو گئی۔{ FN 5309 } اور اس سے دلیل قائم نہیں ہوتی، جیسا کہ امام بخاریؒ نے کہا ہے۔