فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 153 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 153

۴۔جواب۔کہاں ثابت ہوا ہے کہ ابوبکرہ نے قضا نہیں کی۔کیا عدم النقل نقل العدم ہے۔ابن الہمام حنفی نے کہاہے۔بالجملة عدم النقل لاینفی الوجود۔انتہٰی۔{ FR 5297 }؂ ۵۔جواب۔لزوم فاتحہ کا مسئلہ مشہور اور معلوم تھا اس لئے ابوبکرہ کو حکم نہ دیا ہو۔ابن ہمام نے اثبات وجوب فاتحہ میں اعرابی کی نسبت جو مَاتَیَسَّرَ کا حکم ہوا اس پر کہا ہے اِنَّ وُجُوْبُـہُمَا کَانَ ظَاہِرًا۔{ FR 5298 }؂ اور کہا ہے یا مَا تَيَسَّرَ بَعْدَ هَا (الفاتحة) لِظُهُورِ لُزُوْمِهَا۔{ FR 5299 }؂ پس ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلعم نے فاتحہ کے باب میں ابوبکرہ کو کچھ حکم نہ دیا لِظُهُوْرِ لُزُوْمِهَا وَلِأَنَّ وُجُوْبَهَا كَانَ ظَاهِرًا۔{ FR 5300 }؂ ۶۔جواب۔یہاں تقریر ہی نہیں اس مقام میں تو رسول اللہ صلعم نے ابوبکرہ پر انکار کیا ہے۔پھر تقریر کہاں رہی۔۷۔جواب۔ماناکہ سکوت تقریر ہے اِلاَّ تقریر قول کا معارضہ نہیں کر سکتی۔۸۔جواب۔جواز تاخیر بیان میں اصولیوں کا اختلاف ہے۔سائل کا مطلق ممنوع کہنا صحیح نہیں۔۹ـ۔جواب۔بعد فرض و تسلیم تاخیر عن وقت الحاجة ممنوع ہے نہ الی وقت الحاجة اور یہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ سکوت الی وقت الحاجة ہوا اور یہ سکوت جمہور کے نزدیک جائز ہے۔۱۰۔جواب۔ابوبکرہ کی حدیث میں طبرانی نے صَلِّ مَا اَدْرَکْتَ وَ اقْضِ مَا سَبَقَکَ۔{ FR 5301 }؂ زیادہ کیا ہے۔تو شیخ سیوطی من امام الکلام للمولوی عبد الحی صاحب او رزیادہثقہ بلکہ تفرد ثقہ بزیادہ مقبول ہے۔صَرَّحَ بِہِ ابنُ الْہَمَّام پس بیان ہو گیا تاخیر تر ہے۔{ FN 5297 }؂ ازاں جملہ تحریر کا نہ ہونا اُس کے وجود کی نفی نہیں کرتا۔{ FN 5298 }؂ ان دونوں کا واجب ہونا ظاہر ہے۔(فتح القدیر شرح الھدایة لابن الھمام، کتاب الصلاة) { FN 5299 } ؂ اس (یعنی سورۂ فاتحہ کے پڑھنے) کے بعد جو تمہیں میسر ہو (پڑھو) اس کے لازم ہونے کے اظہار کے لیے۔(فتح القدیر شرح الھدایة لابن الھمام، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة) { FN 5300 }؂ اس (یعنی سورہ فاتحہ) کے لازم ہونے کے اظہار کے لیے اور اس لیے کہ اس کا واجب ہونا ظاہر ہے۔{ FN 5301 }؂ جو (حصہ باجماعت نمازکا) تم پالو، پڑھو لو اور جو تمہارے آنے سے پہلے گذر جائے اُسے پورا کرلو۔