فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 131 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 131

ہیں وآنچنانکہ تقیید و اتباع امام ابوحنیفہ باحادیث واقوال صحابہ است دیگربرانیست امام حافظ ابومحمد بن حزم (یہ لفظ ناظرین کو یاد رہے) گفتہ کہ اصحاب ابوحنیفہ ہمہ متفق اندکہ حدیث ہر چند ضعیف باشد مقدم ترواولیٰ تراز قیاس واجتھا دست و وَے رضی اللہ عنہ تابحدِّ ضرورت نرسد عمل بقیاس نکند وعمل بحدیث باقسامہ ازدست ندہد۔الی ان قال۔و از اقسام قیاس نیز جز بقیاس مؤثر عمل نکندوقیاس تناسب و قیاس شبہ وقیاس طرد ہمہ نزد وی د متروک وغیر معمول ست۔فقیر۔عرض کرتا ہے تعجب ہے ہمارے حنفیہ کا عمل درآمد امام صاحب کے اس چال پر کیوں نہیں۔شیخ صاحب کے اس قول سے کئی باتیں نکلتی ہیں۔اوّل یہ کہ قیاس نہایت ہی گری ہوئی چیز ہے کتاب اللہ یا حدیث صحیح یا حسن کے سامنے کیا بلکہ ضعیف کے سامنے بھی حجت نہیں۔دوم۔حدیث ضعیف کے بعد بھی اس کی کوئی قسم بجز قیاس مؤثر قابل نہیں اس کی سب قسمیں متروک ہیں۔سیوم۔تقیید و اتباع باحادیث و آثار کمال کا موجب ہے۔چہارم۔ابن حزم حافظ اور امام ہیں۔(حنیفہ نے ان پر بہت بہت طعن کئے ہیں)۔پنجم۔امام ابوحنیفہ صاحب رحمة اللہ جب ضعیف حدیث پر عمل کر لیتے تھے جیسے شیخ نے کہا اور اسے قیاس پر مقدم کرتے تھے تو معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے فرمایا ہے کہ مجتہد کا استدلال کسی حدیث پراس حدیث کی تصحیح ہے یا کہا ہے کہ امام صاحب کے استدلال کی حدیثیں اگر آج ضعیف ہیں تو امام کے وقت وہ ضرور قوی تھیں بالکل صحیح نہیں کیونکہ امام کے نزدیک جب احادیث ضعیفہ سے استدلال درست تھا تو ان کے کل دلائل حدیثیہ پر صحت کا کس طرح یقین ہو سکتا ہے بلکہ حنفیہ منقطع مرسل موقوف اور مدلّس کی حدیث اور اثر صحابی سے حجت پکڑنے کے مجوزہیں پس ان کے دلائل پر یقین کر ناکہ وہ کتاب اللہ اور سنت صحیحہ پر مبنی ہیں صحیح نہ ہو گا۔اب صاحب ہدایہ کی طرف توجہ کیجیے۔جناب نے دوسری رکعت میں اثبات فرضیت