فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 130
قراءت کو فرض بتاتے ہیں۔اگر کسی حنفی نے واجب کہا ہے تو اس کے واجب کی تفسیر عینی وغیرہ نے یوں فرمائی ہے أَيْ لَازِمَةٌ وَفَرِيْضَةٌ۔{ FR 5207 } صاحبِ ہدایہ نے اس مسئلہ پر برہان قائم فرمائی ہے امر تکرار کا مقتضی نہیں اور ہم نے دوسری رکعت میں قراءت کی فرضیت پہلی رکعت پر قیاس کر کے ثابت کی ہے۔کیونکہ پہلی اور دوسری رکعت باہم ایک طرح کی ہیں۔اور دونوں دوسری دونوں پہلیوںسے علیحدہ ہیں دیکھو سفر میں آخر کی دونوں(رکعات)ساقط ہوجاتی ہیں۔پہلیوںمیں اگر جہر ہے تو ان میں جہر نہیں جتنی لنبی قراءت پہلیوںمیں ہے اتنی ان پچھلی دو میں نہیں۔کئی حنفیوں نے وجوب کا تفرقہ بھی مانا ہے کیا معنے جس پر پہلی رکعت واجب ہے اس پر دوسری بھی واجب ہے اور تیسری چوتھی کا وجوب اس پر ضروری نہیں دیکھو رباعی میں مسافر پر پہلی دوسری رکعت تو فرض ہے مگر تیسری چوتھی فرض نہیں۔ہدایہ کی اصل عبارت وَاَلْأَمْرُ بِالْفِعْلِ لَا يَقْتَضِي التَّكْرَارَ، وَإِنَّمَا أَوْجَبْنَا فِي الثَّانِيَةِ اِسْتِدْلَالًا بِا لْأُوْلٰى لِأَنَّــهُمَا يَتَشَاكَلَانِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ فَأَمَّا الْأُخْرَيَانِ فَيُفَارِقَانِـهِمَا فِي حَقِّ السُّقُوْطِ بِالسَّفَرِ وَصِفَةِ الْقِرَاءَةِ وَقَدْرِهَا۔{ FR 4711 } اس کلام پر گذارش اوّل جب امرتکرار کا مقتضی نہیں تو ایزاد تکرار نسخ ہو گا یعنی ابطال اطلاق اور نسخ بالقیاس جائز نہیں۔دوئم۔امام صاحب کے مناقب اور حنفیہ کے اصول میںلکھا ہے کہ امام کے نزدیک حدیث ضعیف قیاس سے مقدم ہے۔میرے خاص مخاطب اوران کے بڑے معین کو شیخ عبد الحق دہلوی کا قول نہایت قوی دلیل ہے اس لئے بتصدیق ان کا قول نقل کرتا ہوں شیخ صاحب فرماتے { FN 5207 } یعنی لازمی اور فرض ہے۔{ FN 4711 } کسی کام کا امر (اسے)بار بار دُہرانے کا تقاضا نہیں کرتا۔اور پہلی (رکعت) سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے دوسری (رکعت) میں قراءت کو واجب قرار دیا ہے، کیونکہ یہ دونوں (رکعتیں) ہر طرح سے ہم شکل ہیں، اور دوسری دونوں جو ہیں وہ تو سفر میں ساقط ہونے اور قراءت کی صفت اور اس کی مقدار کے سبب سے اِن دونوں (پہلی رکعتوں) سے فرق رکھتی ہیں۔(الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب الصلاة، باب النوافل، فصل فی القراءة)