فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 132
قراءت پر قیاس سے کام لیا ہے اور بخلاف امام ابوحنیفہ احادیث صحیحہ اور ضعیفہ اور ان کے نصوص اور عبارات کو چھوڑ دیا ہے۔شیخ عبد الحق صاحب دہلوی نے سفر السعادت کی شرح میں ہدایہ والے کی نسبت سچ کہا ہے غالباً اشتغال وقت ان استاد درعلم حدیث کمتربودہ است (کم کے لفظ کے ساتھ تر کا اضافہ بھی لطیفہ ہے) مسیکی صحیح حدیث اور احادیث مثبتہ بعدیت رکوع قراءت سے باایں کہ وہ حدیثیں بلامعارض ہیں اور احادیث ضعیفہ سے ابوسعید کی مرفوع حدیث ان النبی ﷺ أمر بقراءة فی کل رکعة { FR 5211 } کو جو تحقیق ابن جوزی میں ہے اور ابن ماجہ کی لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ اِلٰی آخِرِہٖ { FR 5213 } کو۔اور یہ حدیثیں پانچویں دلیل کے شواہد میں گذری ہیں اور آثار صحابہ سے جن کا ذکر آتا ہے استدلال کو ترک کر دیا ہے۔اور قیاس سے استدلال پکڑا پھر قیاس بھی وہ جو متروک ہے یعنی قیاس شبہ جس کو فقہا اِسْتِدْلَالٌ بِالشَّیْءِ عَلٰی مِثْلِہٖ { FR 5214 } کہتے ہیں اور وہ فرع کا الحاق ہے اصل کے ساتھ لِکَثْرَةِ اِشْبَاہِہٖ لِلْاَصْلِ فِی الْاَوْصَافِ { FR 5215 } اور اصول کے کتابوں میں ہے۔انه لیس بحجة عند اکثر الحنفیة و الیه ذهب من ادعی التحقیق منھم و الیه ذهب قاضی ابوبکر والاستاد ابوالنصر و ابواسحاق المروزی و ابواسحاق الشیرازی و الصَّیْرَفِیُّ و الطبری { FR 4712 } اور یہ قیاس بھی صحیح نہیں کیونکہ قولہ اَلْاَمْرُ لَایَقْتَضِی التَّکْرَارِ { FR 5216 } کو اگر اَلْعِبْرَةُ { FN 5211 } نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر رکعت میں قراءت کرنے کا حکم دیاہے۔{ FN 5213 } اُس کی نماز نہیں جس نے ہر رکعت میں قراءت نہ کی……(آخر تک) { FN 5214 } کسی چیز کے ساتھ اُس کے مثل قرار دے کر استدلال کرنا۔{ FN 5215 } صفات میں اصل کے ساتھ کثرتِ مشابہت کی وجہ سے۔{ FN 4712 } اکثر احناف کے نزدیک یہ حجت نہیں ہے۔اور اس کی طرف وہی گیا ہے جس نے اُن میں سے تحقیق کا دعویٰ کیا ہے اور قاضی ابوبکر، استاذ ابوالنصر، ابواسحاق مروَزی، ابواسحاق شیرازی، صیرفی اور طبری ہی اس (سے استدلال) کی طرف گئے ہیں۔{ FN 5216 } اَمر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا۔