فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 93 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 93

فِي الْأَحْكَامِ سِوَى الْمَغَازِيْ وَ إِبْرَاهِيْمُ بْنُ سَعْدٍ مِنْ أَكْثَرِ أَهْلِ الْمَدِيْنَةِ حَدِيْثًا فِي زَمَانِهٖ۔وَلَوْ صَحَّ عَنْ مَالِكٍ تَنَاوُلُهٗ مِنْ اِبْنِ إِسْحَاقَ فَلَرُبَّمَا تَكَلَّمَ الْإِنْسَانُ فَيَرْمِيْ صَاحِبَهٗ بِشَيْءٍ وَاحِدٍ وَلَا يَتَّهِمُهٗ فِي الْأُمُوْرِ كُلِّهَا۔… (وَقَالَ) وَلَمْ يَنْجُ كَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ مِنْ كَلَامِ بَعْضِ النَّاسِ فِيْهِمْ … (قَالَ) لَمْ يَلْتَفِتْ أَهْلُ الْعِلْمِ فِيْ هٰذَا النَّحْوِ إِلَّا بِبَيَانٍ وَحُـجَّةٍ وَلَمْ يَسْقُطْ عَدَالَتُهُمْ إِلَّا بِبُرْهَانٍ ثَابِتٍ وَحُـجَّةٍ … (قَالَ) وَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يَقُولُ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَمِيْرُ الْمُحَدِّثِيْنَ لـِحِفْظِهٖ۔وَرَوَى عَنْهُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْـــعٍ، وَابْنُ عُلَيَّةَ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَكَذَالِكَ احْتَمَلَهٗ أَحْمَدُ وَيَحْيَى بْنُ مُعِيْنٍ، وَعَامَّةُ أَهْلِ الْعِلْمِ۔اِنْتَہٰی۔{ FR 5559 }؂ { FN 5559 } ؂ امام بخاریؒ نے (اپنی تصنیف القراءة خلف الامام میں) کہا: میں نے علی بن عبد اللہ کو دیکھا، وہ ابن اسحاق کی روایت کو حجت سمجھتے تھے۔اور علی نے ابن عیینہ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ ابن اسحاق کو متہم کہتے میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔… (امام بخاریؒ نے کہا:) امام مالک سے ابن اسحاق کے متعلق جوکچھ ذکر کیا جاتا ہے وہ واضح نہیں۔اور اسماعیل بن ابی اویس کو ہم نے امام مالک کی پیروی کرنے والوں میں سے دیکھا ہے،انہوں نے ابن اسحاق کی کتابیں جو اُن کے والد (اسحاق بن یسار) کی روایت سے مغازی وغیرہ کے متعلق تھیں نکال کر میرے سامنے رکھیں تو میں نے اُن میں سے بہت سی (روایات) چُن لیں۔اور ابراہیم بن حمزہ نے مجھے کہا: ابراہیم بن سعد کے پاس محمد بن اسحاق کی احکام کے متعلق سترہ ہزار روایات مغازی کے علاوہ تھیں۔اور ابراہیم بن سعد اپنے زمانہ میں اہل مدینہ میں سے سب سے زیادہ حدیثیں روایت کرنے والے تھے۔اور اگر امام مالک کا ابن اسحاق سے روایت لینا درست ہے تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان بات کرتے ہوئے اپنے کسی ساتھی پر کسی ایک معاملہ میں جرح کرتا ہے جبکہ وہ اسے تمام معاملات میں موردِ الزام نہیں ٹھہراتا۔… (اور امام بخاریؒ نے کہا:) اور لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنے متعلق بعض لوگوں کے کلام سے محفوظ نہیں رہے۔… (امام بخاریؒ نے کہا:) اہل علم نے کسی واضح انکشاف یا دلیل کے سوا اس قسم کی باتوں کی طرف توجہ نہیں کی۔اور کسی ثابت شدہ دلیل اور ثبوت کے بغیر اُن کا راست رَو ہونا ساقط نہیں ٹھہرتا۔… (امام بخاریؒ نے کہا:) اور عبید بن یعیش نے کہا کہ یونس بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے شعبہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ محمد بن اسحاق اپنے حفظ کی وجہ سے امیر المحدثین ہیں۔اور ثوری، ابن ادریس، حماد بن زید، یزید بن زُرَیع، ابن علیہ، عبد الوارث اور ابن مبارک نے ان سے روایت کی ہے۔اور اسی طرح امام احمد بن حنبل، یحيٰ بن معین اور عموماً اہل علم نے ان (سے روایت لینے) کو جائز سمجھا ہے۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الْإِمَامِ)