فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 92 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 92

ابنِ اسحاق مدلّس ہے تو کہیں گے حنفی تدلیس کو جرح نہیں کہتے۔منار وغیرہ اصول کی کتابوں میں لکھا ہے۔لایقبل الطعن بالتدلیس لان غایتہ انہ یوہم شبہة الارسال وحقیقة الارسال لیس بـجرح فشبہتہ اَوْلٰی۔انتہٰی۔ماناکہ تدلیس جرح ہے مگر حاکم اور بیہقی کی روایت میں ابن اسحاق سے تحدیث پر تصریح تھی اس کو کیوں بھلا دیا اگر یاد تھی تو تدلیس کا جواب موجود تھا۔اب آپ کے اتباع کو ابودائود سے راوی کا عمل بھی سنائے بغیر نہیں رہ سکتے۔قَالُوْا: فَكَانَ مَكْحُوْلٌ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِيْ كُلِّ رَكْعَةٍ سِرًّا قَالَ مَكْحُوْلٌ: اِقْرَأْ بِـهَا فِــيْمَا جَهَرَ بِهِ الْإِمَامُ إِذَا قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَ سَكَتَ سِرًّا فَإِنْ لَمْ يَسْكُتْ اِقْرَأْ بِـهَا قَبْلَهٗ وَمَعَهٗ وَبَعْدَهٗ لَا تَتْرُكْهَا عَلٰى كُلِّ حَالٍ۔{ FR 4674 }؂ دیکھو راوی کا روایت پر کیسا عمل ہے۔(ابن اسحاق کی نسبت بحث) بخاری کا قول اس علم (تحقیق رُوات) میں ایسا مسلّم ہے کہ سمجھ دار اہل سنت و جماعت مقلّد یا غیر مقلّد اس پر چون و چرا نہیں کریں گے اس لئے پہلے ان کا ہی قول نقل کرتا ہوں پھر محققین حنفیہ کے ممتاز ابن الھمام کا پھر دو تین اور اَئمہ جرح و تعدیل کا بگوش ہوش سنئے۔اس میں تکذیب امام مالک کا بھی ذکر آجاوے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔قَالَ الْبُخَارِيُّ (فِی الْقِرَاءَةِ) رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَحْتَجُّ بِحَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَقَالَ عَلِيٌّ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا يَتَّهِمُ ابْنَ إِسْحَاقَ۔… (قَالَ) وَالَّذِيْ يُذْكَرُ عَنْ مَالِكٍ فِي ابْنِ إِسْحَاقَ لَا يَكَادُ يُبَيِّنُ، وَكَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِيْ أُوَيْسٍ مِنْ أَتْبَعِ مَنْ رَأَيْنَا مَالِكًا أَخْرَجَ لِيْ كُتُبَ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ الْمَغَازِيْ وَغَيْرِهِمَا فَانْتَخَبْتُ مِنْهَا كَثِيْرًا۔وَقَالَ لِيْ إِبْرَاهِيْمُ بْنُ حَمْزَةَ: كَانَ عِنْدَ إِبْرَاهِيْمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ نَحْوَ مِنْ سَبْعَةَ عَشَرَ أَلْفَ حَدِيْثٍ { FN 4674 } ؂ انہوں نے کہا: مکحول مغرب، عشاء اور فجر کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اِخفاء ًا پڑھا کرتے تھے۔مکحول نے کہا: جن نمازوں میں امام (سورۂ فاتحہ) جہراً پڑھےتو تم بھی اسے پڑھو۔جب وہ سورۂ فاتحہ کی قراءت کرے اور (اس میں) رُکے تو خاموشی سے (پڑھ لو) لیکن اگر وہ (قراءت کے دوران) وقفہ نہ کرے تو اسے اُس سے پہلے اور اُس کے ساتھ اور اس کے بعد پڑھ لو، ہر حال میں اسے مت چھوڑو۔(سنن أبي داود، کتاب الصلاة، أبواب تفريع استفتاح الصلاة، باب من ترک القراءة فی صلاته بفاتحة الكتاب)