فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 84 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 84

بِاعْتِبَارِ … الْأَكْثَرِ، فَإِنَّهٗ يُسَمّٰى إِجْمَاعًا عِنْدَنَا۔{ FR 5071 }؂ ترجمہ مصنف نے باعتبار اکثر اجماع کہا اور جمہوری اجماع کو ہمارے یہاں اجماع کہتے ہیں۔پہلا جواب۔فقیر عرض کرتا ہے۔اس مقام پر عینی کو مناسب تھا فِیْ کُتُبِ الْفِقْہِ اَیْضًا کا لفظ زیادہ کر دیتے تو کہ ان کا کہنا بھی سچا ہو جاتا اور حق بھی ظاہر ہو جاتا۔کیونکہ جس جمہوری اجماع کو کتب فقہ میں اجماع کہا ہے وہ حجت نہیں اور جس اجماع کو قائلین حجیت اجماع نے حجت کہا ہے وہ اجماع الکل ہے جمہور اجماع نہیں۔دوسرا جواب۔عینی کا فرمانا باعتبار الاکثر کل صحابہ کرام کے لحاظ سے ہے یا مختلفین فی مسئلة فاتحة الکتاب و القراءة کے اعتبار سے شق اوّل صریح البطلان ہے اگر کچھ بھی اس شق کی راستی کا گمان ہوتو حنفی کل صحابہ کی تعداد بیان کریں اور پھر ان میں اکثر سے قول ترک القراءت ثابت کریں وَ اَنّٰی لَھُمْ۔اگر مختلفین کے لحاظ سے ہے تو بھی صحیح نہیں۔کیونکہ جس قدر ترکِ قراءت کے آثار مسندہ حنفیہ میں موجود ہیں ان کی روایت کی تعداد مجوّزین قراءت کی تعداد سے زیادہ نہیں اور اگر آثارِ صحیحہ کو دیکھیں تو تابعین کی تعداد مجوّزین اور آخرین کے سامنے برائے نام بھی نہیں۔تارکین قراءت کے اقوال کا مسند ثابت نہ ہونا پھر ان کا منع قراءت پر علی العموم دَالّ نہ ہونا فقیر ظاہر کر چکا ہے۔جن کے آثار ترکِ قراءت پر لاتے ہیں۔ان میں سے اکثر ایسے ہیں جن سے قراءت ثابت ہے۔فقیر نے موازنہ کر کے دکھلایا۔عینی یا عینی کا کوئی حمائتی مقابلہ میں اہل ِ حدیث کے اُن آثار کا موازنہ کر کے دیکھے اور دکھلائے۔تیسرا جواب۔عینی یا ان کا حمایتی معتمد سند سے ثابت کر دے کہ عشرہ مبشرہ اور ابن عمر‘ ابن مسعود ‘ابن عباس اور ستر ّبدری درکنار سات ہی بدریوں نے قراءت فاتحة الکتاب کو سرًّا بھی بعد حکم { FN 5071 }؂ (البناية شرح الهداية للعینی، کتاب الصلاة، باب فی صفة الصلاة، أدنى ما يجزئ من القراءة في الصلاة، قراءة المؤتم خلف الإمام، جزء۲ صفحہ ۳۱۷)