فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 83
اور امربالقراءت ہم نے ثابت کر دیا۔عمر رضی اللہ عنہ مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ابن مسعودؓ ابن عمر ؓ ابن زبیرؓ۔اب آپ کو کافی کا یہ قول وَمِنْهُمُ الْمُرتَضٰى وَالْعَبَادِلَةُ(الثَّلَاثَةُ)۔{ FR 5069 } معلوم ہو گیا کہ کہاں تک سچ تھا۔بات یہ ہے کہ بالکل غلط ہے۔تیرہواں جواب۔یہ آثار ثابت ہی نہیں۔چودہواں جواب۔بہت آثار کو جہر قراءت کے منع پر حمل کر سکتے ہیں اور وہ آثار جہر کے مانع ہیں۔نہ ِسر کے۔پندرہواںجواب۔اگر مرفوع کے تعارض میں کہو مرفوع کلام سے محفوظ نہیں اوّل تو یہ کہنا صحیح نہیں اگر مان لیں تو یہ آثار اور آپ کے اور دلائل بھی کلام سے محفوظ نہیں۔اوّل تو یہ کہنا صحیح نہیں اگر مان لیں تو یہ آثار اور آپ کے اور دلائل بھی کلام سے محفوظ نہیں۔اگر کہو یہ حکماً مرفوع ہیں تو گذارش ہے کہ آثار مخالفہ ان آثار کے بھی حکماً مرفوع نہیں۔دویم۔حکمی مرفوع حقیقی مرفوع کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔علاوہ بریں ابودرداء کے اثر میں تم نے دیکھ لیا کہ وہ کہتا ہے (اَرَیٰ جب اَرَیٰ کا لفظ کہہ کر صحابہ اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہمارے اپنے قول ہیں مرفوع نہیں پھر آپ کیسے مرفوع کہہ دیتے ہیں) سولہواں جواب۔جس حالت میں جمع ممکن پھر تعارض ہی کہاں رہا۔فائدہ عینی نے بنایہ میں جو کچھ فرمایا اس پر گذاش ہے۔عینی نے ھدایة کے اس قول کے نیچے عَلَيْهِ إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ رِضْوَانُ اللهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِيْنَ۔{ FR 5070 } عبادہ اور ابوہریرہ وغیرہ کا اختلاف دیکھ کر کہا۔(قَالَ الْعَيْنِيُّ) قُلْتُ سَمَّاهُ إِجْمَاعًا { FN 5069 } (حضرت علی) مرتضیٰؓ اور عبد اللہ نامی تین (صحابہ یعنی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ) ان میں سے ہیں۔{ FN 5070 } اس پر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع ہے۔