فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 85
فاتحة الکتاب منع کیا ہو یا عام ممانعت ان سے ثابت کردے۔اور بخاری صاحب کا یہ قول اس وقت مدنظر رہے۔بخاری نے جزء القراءتمیں کہا ہے۔قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: اِقْرَأْ خَلْفَ الْإِمَامِ۔قُلْتُ: وَإِنْ قَرَأْتَ، قَالَ: وَإِنْ قَرَأْتُ۔وَكَذَالِكَ قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَحُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ وَعُبَادَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَيُذْكَرُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ وَعِدَةٌ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ ذَالِكَ، وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَئِـمَّةِ يَقْرَؤُوْنَ خَلْفَ الْإِمَامِ۔وَقَالَ أَبُوْ مَرْيَمَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ (رَضِيَ اللهُ عَنْهُ )يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ۔وَقَالَ أَبُوْ وَائِلٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنْصِتْ لِلْإِمَامِ۔وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: دَلَّ عَلٰی أَنَّ هٰذَا فِي الْجَهْرِ، وَ إِنَّمَا يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيْـمَا سَكَتَ الْإِمَامُ۔وَقَالَ الْحَسَنُ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَمَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ وَمَالَا أُحْصٰى مِنَ التَّابِعِينَ وَأَهْلِ الْعِلْمِ: إِنَّهٗ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ وَ إِنْ جَهَرَ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَأْمُرُ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ۔{ FR 5072 } { FN 5072 } حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا: امام کے پیچھے (بھی) قراءت کرو۔(راوی کہتے ہیں:) میں نے عرض کیا: اگر آپؐ قراءت کررہے ہوں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں اگر چہ میں بھی قراءت کررہا ہوں۔اور حضرت اُبَيّ بن کعب، حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت عبادہ رضی اللہ عنہم نے بھی ایسا ہی کہا۔اور حضرت علی بن ابی طالبؓ، حضرت عبد اللہ بن عمروؓ، حضرت ابوسعید خدریؓ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد صحابہ سے بھی ایسا ہی بیان کیا جاتا ہے۔اور قاسم بن محمد نے کہا: بہت سے لوگ جو اَئمہ تھے وہ امام کے پیچھے قراءت کیا کرتے تھے۔اور ابومریم نے کہا:میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو امام کے پیچھے قراءت کرتے ہوئے سنا۔اور ابووائل نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کرتے ہوئے کہا: امام کی خاطر خاموشی اختیار کرو۔اور ابن مبارک نے کہا: یہ بات جہری نمازوں پر اطلاق پاتی ہے۔اور جن میں امام خاموش ہو، صرف انہی میں امام کے پیچھے قراءت کی جائے۔اور حسن (بصری)، سعید بن جبیر، میمون بن مہران اور بے شمار تابعین اور اہل علم نے کہا: (مقتدی) امام کے پیچھے قراءت کرے خواہ وہ قراءت بالجہر کر رہا ہو۔اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا امام کے پیچھے قراءت کا حکم دیا کرتی تھیں۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ)