فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 82 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 82

بڑے بڑے لفظ سنا کر کیوں دھوکہ دیتے ہو۔دسواں جواب۔آپ نے اور آپ کے عینی نے ہدایہ شریف کے عیب ڈھانکنے کو خود ہی لکھ دیا ہے۔(سَمَّاہُ اِجْمَاعًا بِاِعْتِبَارِ الْاَکْثَرِ) { FR 5066 }؂ اس پر گذارش ہے کہ آیا اِجْمَاعُ الْاَکْثَر اصول میں حجت ہے یا اِجْمَاعُ الْکُل جو اجماع اصول فقہ میں بعد السنہ حجت مانا گیا ہے اور جس اجماع سے صاحب ہدایہ استدلال پکڑ رہے ہیں وہ حسبِ بیان آپ کے جمہوری اجماع ہے اور وہ حجت نہیں۔گیارہواں جواب۔تسلیم محال مانا کہ اجماع جمہوری بھی حجت ہے اِلَّا کہتے ہیں ترمذی نے عبادہ کی حدیث میں وُجُوْبُ فَاتِـحَةِ الْکِتَابِ خَلْفَ الْاِمَامِ میں فرمایا ہے۔وَالعَمَلُ عَلٰى هٰذَا الْـحَدِيثِ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالتَّابِعِينَ۔اِنْتَہٰی { FR 5067 }؂ اور امام بخاری نے جزء القرأ ة میں فرمایا۔وَمَالَا أُحْصٰى مِنَ التَّابِعِينَ وَأَهِلِ الْعِلْمِ: إِنَّهٗ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ وَ إِنْ جَهَرَ۔{ FR 5068 }؂ تنبیہ۔آپ لوگ عمل بالحدیث پر یہ اعتراض بھی فرمایا کرتے ہیں کہ احادیث میں بعض ایسے اطلاق کا ذکر ہے جو اصل میں مقید ہے۔فقہا (مقلّدین خاص ایک امام اور اس کے شاگردوں نے) خوب مفصل بیان کر دیا اور مطلق کو جہاں مقید کرنا تھا وہاں مقید کر دیا۔اب آپ کی تقریر سے ثابت ہو گیا کہ بعض فقہا کے مطلق بھی قابل تقلید ہیں جو روک عمل بالحدیث میں آپ بیان کرتے تھے وہ یہاں بھی پائی گئی۔بارہواں جواب۔جن صحابہ سے آپ نے ترک قراءت ثابت کیا ہے۔ان سے فعل قرایت { FN 5066 }؂ انہوں نے اکثریت کے اتفاق کرنے کی وجہ سے اسے اجماع کا نام دیا ہے۔(البناية شرح الهداية للعینی، کتاب الصلاة، باب فی صفة الصلاة، أدنى ما يجزئ من القراءة في الصلاة، قراءة المؤتم خلف الإمام) { FN 5067 } ؂ امام کے پیچھے قراءت کرنے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا عمل اس حدیث کے مطابق ہے۔(ترمذي، أبواب الصلاة، بَابُ مَا جَاءَ فِي القِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ) ؂ اور بے شمار تابعین اور اہل علم (نے کہا ہے) کہ امام کے پیچھے (سورۂ فاتحہ کی) قراءت کرے، خواہ امام قراءت بالجہر کررہا ہو۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ)