فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 81
مسئلہ مرفوع حدیث سے فقیر ثابت کر چکا ہے۔ساتواں جواب۔اہل حدیث نے بفضل الٰہی۔حدیث منع قراءت خلف الامام اور آیت شریفہ اَنْصِتُوْا اور آیت فَاقْرَءُوْا اور آثار کفایت بلکہ منع قراءت خلف الامام اور احادیث قراءت فاتحة الکتاب اور حدیث فَصَاعِدًا سب پر عمل کیا اور کرتے ہیں اور کریں گے ذَالِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ امام کے پیچھے بخوفِ منازعہ اور مخالجہ اور مخالطہ جہراً نہیں پڑھتے۔فاتحة الکتاب آہستہ پڑھ کر چپ رہتے ہیں۔سورة کا پڑھنا ضروری نہیں جانتے۔اس میں امام کے پڑھنے کو کافی سمجھتے ہیں۔فاتحة الکتاب کے ساتھ منفرد ہوں یا امام ہوں تو سورة ضرور ملا لیتے ہیں مقتدی کو ملا لینا جائز سمجھتے دیکھو تو سب احکام الٰہیہ پر سرتسلیم کو جھکائے بیٹھے۔ایں سعادت بزورِ بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ پھر یہ آثار سنا کر آپ سے عرض ہے کہ یہ حال آپ کے ان مسائل کا ہے جن میں آپ لوگ اجماع کا دعویٰ کر بیٹھتے ہیں۔آٹھواں جواب۔قَالَ الْبُخَارِيُّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَحُكْمُهٗ إِلَى اللهِ وَ إِلٰى مُحَمَّدٍ { FR 4666 } برفرض محال۔اگر ہم مان لیں کہ جو آثار آپ لوگ ذکر فرماتے ہیں صحیح ہیں اور جو آثار آپ کے خلاف ہیں وہ تو خود صحیح ہی ہیں ان میں کلام نہیں پس آثار میں حسب تسلیم اختلاف ہوا اب آپ اس اختلاف کو احکام الٰہیہ فَاقْرَؤُوا وَ مَااَتَاکُمُ الرَّسُوْلُ۔وغیرہ پر اور احادیث صحیح ثابتہ فی قراءت فاتحة الکتاب پیش کیجیے۔نواں جواب۔مولوی صاحب یہ اجماع کب ہوا کہاں ہوا۔وہ نقل متواتر کہاں ہے جس سےثابت ہوا آپ کا عینی‘ امام شافعی ؒکے عدم اطلاع پر دم بخود ہے اور کہتا ہے خبرِواحد سے ثابت ہوا۔سبحان اللہ کیا یہی اجماع آپ کے اصول میں حجت ہے۔خدا سے ڈرو لوگوں کو ایسے { FN 4666 } (امام بخاریؒ نے کہا:) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز میں بھی تم اختلاف کرو تو اُس کا فیصلہ اللہ اور محمد (ﷺ) سے ہوگا۔