فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 79 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 79

عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَوْلٰى جَابِرِ۔۴ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ لِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اقْرَأْ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ۔{ FR 5059 }؂ اور ابن مسعود۔۵سے ثبوت قَرَءْتُ خَلْفَ الْاِمَامِ اوپر گذر چکا۔اور ابن عمرو۔۶ کی اثر کی نسبت (قَالَ الْبُخَارِيُّ) حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ بِمَكَّةَ أَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: إِنِّي لَأَسْتَحْيِیْ مِنْ رَبِّ هَذِهِ الْبِنْيَةِ أَنْ أُصَلِّيَ صَلَاةً لَا أَقْرَأُ فِيْهَا وَلَوْ بِأُمِّ الْكِتَابِ۔{ FR 5060 }؂ وَعَنْ يَحْيٰى … (سُئِلَ) ابْنُ عُمَرَ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فَقَالَ: مَا كَانُوْا يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يَّقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهٖ۔{ FR 4665 }؂ اور زید۔۷بن ثابت کی اثر پر بخاری نے کہا ہے لَا يُعْرَفُ لِهٰذَا الْإِسْنَادِ سَمَاعَ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ وَلَا يَصِحُّ مِثْلُهٗ۔{ FR 5061 }؂ ابودردا کی اثر پر خود ابودردا۔۸ کا قول کافی ہے کہ وہ کہتا ہے أَرَیٰ اور اپنے خیال کو اپنی ہی طرف منسوب کر کے مرفوع نہیں کرتا اور اس کی اَرَیٰ کے مقابلہ میں عبادہ بن ثابت کا اثر سنئے محمود بن ربیع نے بیان کیا عبادہ سے سَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ نَسِيَ الْقِرَاءَةَ قَالَ: أَرَىٰ يَعُودُ لِصَلَاتِهٖ وَ إِنْ ذَكَرَ ذٰلِكَ وَهُوَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَلَا أَرَىٰ إِلَّا أَنْ يَّعُوْدَ { FN 5059 }؂ زُہری سے روایت ہے۔انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ کے آزاد کردہ غلام سے روایت کی۔(انہوں نے کہا:) مجھے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ظہراور عصر میں (امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ) پڑھا کرو۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ) { FN 5060 }؂ (امام بخاریؒ نے کہا:) ابوالعالیہ نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن عمرؓ سے مکہ میں پوچھا: کیا میں نماز میں قراءت کروں؟ انہوں نے فرمایا: میں تو اس گھر کے ربّ سے حیا کرتا ہوں کہ میں کوئی نماز پڑھوں اور اس میں قراءت نہ کروں اگرچہ سورۂ فاتحہ ہی ہو۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ) { FN 4665 }؂ اور یحيٰ …… سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓ سے امام کے پیچھے قراءت کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ (یعنی صحابہ) اپنے دل میں سورۂ فاتحہ پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ) { FN 5061 }؂ اس سند کے راویوں کے ایک دوسرے سے سماع کا علم نہیں ہوتا۔اور ایسی روایت صحیح نہیں ہوتی۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ)