فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 78
نہیں وَلَا يَحْتَجُّ أَهْلُ الْحَدِيثِ بِمِثْلِهٖ۔{ FR 5054 } پھر بخاری نے کہا ہے علی مرتضیٰؓ کا وہی اثر اوّل اور صحیح ہے جس کو زُہری نے ابن ابی رافع سے اور اس نے علی مرتضیٰ ؓ سے روایت کیا ہے۔اَنَّهٗ كَانَ يَأْمُرُ وَيُحِبُّ أَنْ يُقْرَأَ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ سُورَةٍ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ۔{ FR 5055 } اور جناب امیر کے اس اثر کی نسبت جس میں ابواسحاق نے حارث سے روایت کیا ہے۔سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللّهُ عَنْهُ عَمَّنْ لَّمْ يَقْرَأْ، فَقَالَ: أَتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُوْدَ وَقُضِيَتْ صَلَاتُكَ۔{ FR 5056 } گذارش ہے کہ بخاری نے کہا ہے شعبہ کہتا ہے ابواسحاق نے حارث سے کل چار ہی حدیثیں سنیں اور یہ ان میں نہیں اور یہ اثر حجت کے قابل نہیں انتہٰی۔ترجمہ قول البخاری۔جا۳بر کی اثر پر اوّل تو حنفیوں کو خود ہی کلام ہے اس لئے کہ فرضوں کی کل رکعتوں میں قرا ءت ضروری نہیں سمجھتے اور اثر میں ہر رکعت میں الحمد پڑھنے کا حکم ہے۔دوم۔جابر کا فعل خود مخالف ہے۔ابن ماجہ نے اپنی سنن میں لکھا ہے۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ كُنَّا نَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ۔{ FR 5057 } تیسرے بخاری نے روایت کیا ہے { FN 5054 } اور اہل حدیث اس جیسی روایت کو حجت نہیں بناتے۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ) { FN 5055 } کہ وہ حکم دیتے تھے اور پسند فرماتے تھے کہ ظہر اور عصر (کی نمازوں) میں امام کے پیچھے (پہلی دو رکعات میں) سورۂ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھی جائے اور دوسری دو (رکعات) میں (صرف) سورۂ فاتحہ پڑھی جائے۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ) { FN 5056 } حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے قراءت نہ کی، تو آپؓ نے فرمایا: رکوع اور سجدے کو پورا کرو ، تمہاری نماز ادا ہوجائے گی۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الْإِمَامِ) { FN 5057 } حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: ہم ظہر اور عصر (کی نمازوں) میں امام کے پیچھے پہلی دو رکعات میں سورۂ فاتحہ اور کوئی ایک سورت پڑھا کرتے تھے اور دوسری دو (رکعات) میں (صرف) سورۂ فاتحہ پڑھتے تھے۔(سنن ابن ماجة، کتاب إقامة الصلاة، باب القراءة خلف الإمام)