فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 80 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 80

لِصَلَاتِهِ۔{ FR 5062 }؂ اب رہا عبد اللہ بن۔۹ عباس کا اثر اس کے جواب میں بخاری صاحب فرماتے ہیں۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٌ: لَيْسَ أَحَدٌ بَعْدَ النَّبِيِّ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) إِلَّا يُؤْخَذُ مِنْ قَوْلِهٖ وَيُتْرَكُ إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔{ FR 5063 }؂ یہ حال آپ کے ان آثار کا ہے جن کے بھروسے آپ لوگوں نے نصوص صحیحہ مرفوعہ کو چھوڑا اور شروح و حواشی میں بڑے شدومد کے ساتھ ان سے استدلال پکڑا۔ان کے ماوراء اگر آپ لوگ کچھ اور آثار ثابت کردکھلائیں گے تو اس وقت آپ دیکھیں گے۔دوسرا جواب یہ آثار جن سے آپ لوگ عمل بالحدیث و الوں پر ملامت کی تلوار کھینچ رہے ہیں ایسے ہیں جیسے ان کا حال آپ کو عرض کیا۔اب ان کے مقابلہ میں جو آثار ہم نے بیان کئے ہیں۔جیسے اثر قراءت خلف الامام کا حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ اور عبادہؓ اور ابوہریرةؓ عائشہؓ اور ابوسعیدؓ اور ابی بن کعبؓ اور حذیفہؓ اور عبد اللہ بن عمروؓ وغیرہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے انصاف سے دیکھو اور مقابلہ کرو کون سے آثار کو ترجیح ہے۔تیسرا جواب۔آپ کے مفید مطلب آثار ثابت نہیں اگر مان لیں کہ ثابت ہیں تو آثار مثبتہ قراءت فاتحة الکتاب کے متعارض ہوں گے اور آثار معارضہ حجت نہیں۔اپنا اصول کھول کر دیکھو۔چوتھا جواب۔اکثر ان آثار سے جن کو آپ لوگ بیان کرتے ہیں سوائے آثار وعید جن کا بیان آگے آتا ہے انشاء اللہ تعالیٰ منع نکلتے ہی نہیں بلکہ کفایت نکلتے ہیں اور وہ آپ کا مدعا نہیں۔پانچواں جواب۔مطلق آثار ہی کی حجت خیر منع میں ہے یہ مسئلہ نہ مبین اور مبرہن۔چھٹا جواب۔آثار صحابہ کرام مرفوع کے مقابلے حجت نہیں اور فاتحة الکتاب خلف الامام کا { FN 5062 }؂ کہ میں نے آنحضورصلی اللہ علیہ و سلم سے اُس شخص کے متعلق پوچھا جو (نماز میں ) قراءت کرنا بھول جائے۔آپؐ نے فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنی نماز دُہرائے اور اگر اُسے دوسری رکعت میں ہوتے ہوئے یاد آجائے تو بھی میری یہی رائے ہے کہ وہ اپنی نماز دوبارہ پڑھے۔(القراءة خلف الإمام للبخاري) { FN 5063 }؂ حضرت ابن عباسؓ اور مجاہد نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے قول کی وجہ سے کچھ اختیار کیا جائے اور چھوڑا جائے، سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے (قول کے سبب۔) (القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ)