فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 68
جواب ۳۔زیادت علی الفاتحہ کی فرضیت جناب عمر ؓ اور ابن عمرؓ اور عثمان بن ابی العاص کا مذہب ہے۔آپ کے نزدیک قول صحابی حجت ہے۔پس یہ حدیث مع آثار آپ پر الزام ہے۔جواب ۴۔وہ حدیثیں جن سے بخصوصیت مقتدی پر قرا ء ت فاتحہ کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔ان میں صرف فاتحة الکتاب ہی کا ذکر ہے۔مَا زَادَ عَلَی الْفَاتِـحَةِ کا ذکر نہیں۔پس ہم مَا زَادَ عَلَی الْفَاتِـحَةِ کا حکم امام اور منفرد کے واسطے اگر سمجھ لیں اور احادیث مثبتہ صرف فاتحہ باعث تخصیص مان لیں تو آپ کا کوئی الزام ہم پر عائد نہیںہو سکتا۔جواب۵۔ہم کہتے ہیں۔مَا زَادَ عَلَی الْفَاتِـحَةِ کا پڑھنا بالکل ممنوع نہیں۔گیارہواں اعتراض قِرَائَ ةُ الْاِمَامِ لَہٗ قِرَا ءَ ةٌ پر صحابہ کا اجماع ہے اور فاتـحة الکتاب کا پڑھنا اس اجماع کے خلاف ہے۔جواب اوّل۔اگر یہ اجماع ہوتا تو شافعی جیسا صاحب مذہب اس اجماع پر مطلع نہ ہوتا۔جواب دوم۔صحابہ اور تابعین سے قراءت خلف الامام احسن وجوہ سے ثابت ہے پس اجماع نہ ہوا۔سنیے بخاری نے کہا ہے۔حَدَّثَنَا مُسَدَّ دٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيٰى عَنِ الْعَوَّامِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُوْنَضْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْ رِيُّ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فَقَالَ: بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ۔{ FR 4977 } { FN 4977 } مسدّد نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نےکہا: یحيٰ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عوام (بن حمزہ مازنی) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ابونضرہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو سعید خدریؓ سے امام کے پیچھے قراءت کرنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: (امام کے پیچھے) سورۂ فاتحہ (پڑھو۔) (القراءۃ خلف الإمام للبخاري، بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الْإِمَامِ)